خطبات محمود (جلد 33) — Page 14
1952 14 خطبات محمود مسلمان ہندوستان کے مسلمانوں کو یہی مشورہ دیتا ہے کہ وہ امن سے رہیں فساد نہ کریں۔اگر ان کی کا یہ مسئلہ صحیح ہے کہ جب مسلمانوں پر غیر کی حکومت ہو اور وہ حکومت اپنا حق سمجھے کہ ایسے قانون کی جاری کر دے جو اسلام کے مطابق نہ ہوں تو مسلمانوں پر اس حکومت سے جہاد کرنا فرض ہو جاتا ہے۔تو ان کا ہندوستانی مسلمانوں کو یہ مشورہ دینا کہ وہ امن سے رہیں فساد نہ کریں صحیح نہیں۔اگر ان کے خیال کے مطابق انگریزوں سے جہاد کرنا فرض تھا، اگر انگریزوں کی جاری کردہ تعزیرات ہند اسلام کے خلاف تھیں تو وہی تعزیرات ہند اب بھی ہیں اور ملک میں اب بھی غیر مسلم حکومت کی قائم ہے جو اپنا حق سمجھتی ہے کہ وہ جو چاہے قانون بنادے۔اب اس سے جہاد کرنا کیوں فرض نہیں؟ جو وجہ انگریز کی حکومت کے وقت پائی جاتی تھی وہ اب بھی موجود ہے۔لیکن اب کوئی کچ شخص اس بات کی جرات نہیں کرتا کہ وہ جہاد کا اعلان کرے۔ورنہ کیا وجہ ہے کہ انگریزوں سے جہاد کرنا فرض تھا لیکن ہندوؤں سے جہاد کرنا فرض نہیں۔جو جرم انگریزوں کا تھا وہی مجرم ہندوؤں کا ہے لیکن باوجود اس کے دوسرے مسلمان ہندوؤں کے خلاف جہاد کا اعلان نہیں کی کرتے۔احمدیت کے عقیدہ کے مطابق تلوار کا جہاد نہ پہلے فرض تھا اور نہ اب فرض ہے۔کیونکہ اسلام کو مٹانے کے لئے نہ انگریزوں نے بظا ہر کوئی کوشش کی تھی اور نہ ہندو اسلام کو مٹانے کے لئے تلوار سے کام لے رہا ہے۔ایک احمدی کے عقیدہ کے مطابق جہاد کی جو شرائط پہلے پائی جاتی تھیں وہ شرائط اب بھی پائی جاتی ہیں۔اُس وقت بھی امن کی ضرورت تھی اور اب بھی امن کی ضرورت ہے۔جس جہاد کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیش کیا تھا اور جو جہاد ہم کر رہے ہیں وہ کسی وقت بھی ہٹ نہیں سکتا۔ہر وقت نماز ، جہاد اور ذکر الہی ضروری ہیں۔جہاد کے معنی ہیں کی اپنے نفس کی اصلاح کی کوشش کرنا اور غیر مسلموں کو اسلام میں لانے کے لئے تبلیغ کرنا۔اور جی روز وشب جماعت سے ہمارا یہی خطاب ہوتا ہے۔ہم انہیں یہی کہتے ہیں کہ تم دوسرے لوگوں کو تبلیغ کے ذریعہ مسلمان بناؤ۔ہمارا جہاد وہ ہے جو نماز کی طرح روزانہ ہو رہا ہے۔اور جو احمدی اِس جہاد میں حصہ لیں گے وہ کہہ سکتے ہیں کہ ہم جہاد کر رہے ہیں۔لیکن جو لوگ اس جہاد میں حصہ نہیں لیں گے ہم ان کے متعلق فتویٰ تو نہیں دیتے لیکن جس طرح نماز نہ پڑھنے والا سچا مسلمان کی