خطبات محمود (جلد 33) — Page 16
1952 16 خطبات محمود کہ وہ تحریک جدید کے وعدے اس رنگ میں بھجوا ئیں کہ ہر ایک بالغ احمدی اس میں شامل مجھ ہو جائے اور اپنی حیثیت کے مطابق اس میں حصہ لے۔ہر ایک احمدی کو بتاؤ کہ اس کا تحریک جدید میں حصہ لینا احمدیت کے قیام کی غرض کو پورا کرنا ہے۔اگر کوئی شخص تحریک جدید میں حصہ نہیں لیتا ہ تو اُس کے احمدیت میں داخل ہونے کا کیا فائدہ۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ لوگوں پر بہت زیادہ بوجھ ہے۔غرباء کی حالت کو دیکھ کر دل گڑھتا ہے۔ان پر اتنا بوجھ ہے جو پہلے کبھی نہیں پڑا۔لیکن اس میں بھی کیا شبہ ہے کہ اسلام پر بھی وہ بوجھ آ پڑا ہے جو پہلے کبھی نہیں پڑا۔مصیبت کے وقت ہر ایک کو بوجھ اٹھانا ہی پڑتا ہے۔جب دنیا میں اسلامی حکومت اس رنگ میں قائم ہو جائے گی کہ ہر ایک شخص کو خوراک اور لباس مہیا کر دیا جایا کرے گا اُس وقت چندہ دینا موجودہ وقت میں چندہ دینے سے سواں حصہ بھی برکت کا موجب نہیں ہوگا۔پس بے شک تم پر بوجھ زیادہ ہے اور میں اس بوجھ کو محسوس کرتا ہوں اور ساری دنیا تمہاری تعریف کر رہی ہے لیکن ہمارا کام بھی بہت بڑا ہے اور ہم اسے نظر انداز نہیں کر سکتے۔باوجود اس کے کہ ہم پر بوجھ زیادہ ہے ہمیں اسلام کی خاطر قربانی کرنی پڑے گی۔کیونکہ ہمارے خدا نے ہم پر اعتبار کر کے یہ کام ہمارے سپرد کیا ہے۔“ الفضل 24 جنوری 1952ء)