خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 70 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 70

1952 70 خطبات محمود منہ میں ڈال دو تو سارے لوگ کہیں گے کہ یہ شخص انعام کا مستحق ہے۔حالانکہ دریا تو دو دو ہزار کی میل کے بھی ہوتے ہیں تمہیں اتنے لمبے دریا کو دریا کہنے پر انعام نہیں ملے گا مگر دس گز پانی کو عبور کر کے انعام مل جائے گا۔کیونکہ تم نے دو ہزار میل لمبے دریا کو دریا کہہ کر کوئی قربانی نہیں کی۔تم نے محض سچائی کا اقرار کیا ہے۔لیکن دس گز پانی کو عبور کر کے تم نے قربانی کی ہے اس لئے تم انعام کے مستحق ٹھہرے ہو۔یا مثلاً کوہ ہمالیہ ہے۔کوہ ہمالیہ ڈیڑھ دو ہزار میل لمبا ہے اور سو ڈیڑھ سو میل تک اس کی پہاڑیاں چلی جاتی ہیں۔پھر اس کی بعض چوٹیاں کئی کئی میں اونچی چلی جاتی ہیں۔اگر کی تم اس کا رقبہ نکا لو تو کتنا بڑا رقبہ بنتا ہے۔لیکن اگر تم ہمالیہ کو ہمالیہ کہو اور انعام طلب کرو تو ہر شخص کی تمہیں پاگل کہے گا۔لیکن اگر ہمالیہ کی کسی کھڈ میں کوئی بچہ گر جائے اور تم اُس کھڑ میں اپنے آپ کو گرالو، تمہارا باز وٹوٹ جائے ، جسم زخمی ہو جائے لیکن تم اس بچے کو باہر نکال لاؤ تو ہر ایک مخی کہے گا کہ تم انعام کے مستحق ہو۔غرض تمہیں ہمالیہ کے اقرار کرنے سے انعام نہیں ملے گا۔ہاں اُس چھوٹی سی کھڈ کی وجہ سے انعام مل جائے گا۔کیونکہ انعام انہی چیزوں کی وجہ سے ملتا ہے جنہیں انسان تکلیف اٹھا کر کرتا ہے۔یہاں یہ حالت ہے کہ بعض ماتحت اپنے افسروں سے تعاون نہیں کرتے۔گواہی کا موقع آتا ہے تو ہیر پھیر اور ایسچ پیچ کرتے ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ میں نے کوئی احمدی ایسا نہیں دیکھا جو جان بوجھ کر جھوٹ بولتا ہو۔لیکن میں نے کئی احمدی ایسے دیکھے ہیں جو گواہی کے وقت ایچ پیچ سے کام لیتے ہیں۔اور جب وہ جھوٹ نما باتیں کرتے ہیں تو کی ان کے لئے جھوٹ بولنا آسان ہو جاتا ہے۔پس تم اپنی ذہنیت بدلو۔جب تم اپنی ذہنیت بدل لو گے تو احمدیت تمہارے لئے ہزاروں برکتوں کا باعث بن جائے گی۔ورنہ جس طرح لوگ گشتی دیکھنے کے لئے جمع ہو جاتے ہیں اُسی طرح تمہارا بھی یہاں اکٹھے ہونا سمجھا جائے گا۔فرق صرف اتنا ہے کہ دوسرے لوگ گاما پہلو ان کی کشتی کی وجہ سے اکٹھے ہو جاتے ہیں اور تم اپنے خلیفہ یا کسی تی مبلغ کے آنے پر اکٹھے ہو جاتے ہو۔حالانکہ جب تک تم ایسے اخلاق ظاہر نہیں کرتے کہ تمہیں دیکھ کر ہر شخص یہ کہنے لگ جائے کہ یہ لوگ جھوٹے نہیں اُس وقت تک تمہارا احمدی ہونا تمہیں کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتا۔آج ہی ایک بات میرے سامنے پیش کی گئی ہے کہ بعض افسر اپنے ماتحتوں سے ذاتی کام