خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 69 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 69

1952 69 خطبات محمود نے بعض لوگوں کے متعلق جنہوں نے مسلمانوں پر وحشیانہ مظالم کئے تھے اور جو تعداد میں پانچ سات تھے یہ فتویٰ دیا کہ اُنہیں معاف نہیں کیا جائے گا بلکہ جہاں کہیں وہ ملیں انہیں قتل کر دیا جائے۔ان میں ہندہ بھی شامل تھی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب عورتوں کی بیعت لینے لگے تو بیعت میں یہ اقرار بھی لیا جاتا تھا کہ ہم شرک نہیں کریں گی۔جب آپ نے یہ الفاظ کہے کہ ہم شرک نہیں کی کریں گی تو ایک عورت بول اٹھی کہ یا رسول اللہ! کیا ہم اب بھی شرک کریں گی؟ کیا اب بھی نہ توحید میں کوئی شبہ باقی ہے؟ ہندہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رشتہ دار تھیں اور آپ اُس کی تی آواز پہچانتے تھے۔آپ نے فرمایا کیا ہندہ ہے؟ مطلب یہ تھا کہ تمہارے لئے تو موت کی سزا کا کی حکم ہے۔ہندہ دلیر عورت تھی وہ ہنس کر کہنے لگی یا رَسُوْلَ اللہ ! اب آپ کا زور مجھ پر نہیں چل سکتا ، میں لا الہ الا اللہ پڑھ چکی ہوں اور مسلمان ہو چکی ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ٹھیک ہے 1۔غرض ہندہ مسلمان ہوئی اور بعد میں اس نے اسلام کی خدمات بھی کیں۔اُس کا اُس وقت یہ کہنا کہ کیا ہم اب بھی شرک کریں گی ؟ یہ ایک طبعی فقرہ تھا کہ ہم شرک کرتے تھے اور آپ تو حید کی تعلیم دیتے تھے۔آپ اکیلے تھے اور ہمارے ساتھ ساری قوم تھی۔ساری قوم نے زور لگایا اور کہا یہ بہت ہے، وہ بُت ہے ہم ان کی مدد سے یوں کریں گے ، یوں جی کریں گے۔پھر ہمارے پاس طاقت تھی اور آپ کمزور تھے۔لیکن ہم ہار گئے اور آپ جیت کی گئے۔ہمارے سارے بُت ٹوٹ گئے لیکن خدا تعالیٰ نے آپ کی مدد کی۔کیا اتنا بڑا نقصان دیکھنے کے بعد بھی اس میں کوئی شبہ باقی رہ جاتا ہے کہ خدا ایک ہے۔پس خدا تعالیٰ کا ایک ہونا أَظْهَرُ مِنَ الشَّمْسِ ہے۔اسی طرح محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا رسول ہونا بھی اَظْهَرُ مِنَ الشَّمْسِ ہے۔اور اگر کوئی شخص شرارت سے اس کا انکار نہیں کرتا ، اگر کوئی شخص ضد کی وجہ سے اس کے خلاف فیصلہ نہیں کرتا یا وہ عقل کو جواب نہیں دے دیتا تو وہ اس کا انکار کر ہی نہیں سکتا۔پھر خدا تعالیٰ کو ایک کہہ کر یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو رسول کہہ کر ہم نے ان پر کون سا احسان کر دیا ہے کہ خدا تعالیٰ اس کے بدلہ میں ہمیں جنت دے دے۔اگر تم دریا کو دریا کہہ دیتے ہو تو تمہیں کوئی انعام نہیں ملے گا۔ہاں اگر کوئی شخص دریا میں ڈوب رہا ہو اور تم اسے بچانے کے لئے دریا میں چھلانگ لگا دو، تم بھنور میں گھر جاؤ اور اپنے آپ کو موت کے کی