خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 154 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 154

1952 154 خطبات محمود اور مالدار ہیں۔لائل پور کی جماعت سرگودھا کی جماعت سے تعداد میں بہت زیادہ ہے لیکن فی کس کی کے لحاظ سے اس کی مالی حالت اتنی اچھی نہیں، مالدار نہیں اور اس وجہ سے ہمیں اس کے حساب کی میں رعایت سے کام لینا پڑتا ہے۔اس کے چندہ کا نقشہ ابھی شائع نہیں ہوا اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ اس کا کیا حال ہے۔ہمارے لئے اس اعلان میں ایک خوشی کا پہلو بھی ہے اور وہ یہ کہ ہمارے لئے موقع ہے کہ اگر ہم کوشش کریں تو ہما را چندہ بڑھ سکتا ہے اور ہمارا بار آسانی سے دور ہو سکتا ہے۔اس سال گیارہ لاکھ اکاون ہزار روپیہ کا بجٹ بنا تھا۔جس میں سے ہمیں ایک لاکھ بائیس ہزار روپیہ کا ناتنی پڑا یعنی گیارہ لاکھ اکاون ہزار کو دس لاکھ انتیس ہزار کرنا پڑا۔اگر چندے پوری طرح وصول کی ہوتے تو بجٹ پچیس لاکھ روپیہ کا ہوتا۔اور اگر یہ آمد ہوتی تو اس کے معنی یہ ہوتے کہ ہمیں کوئی رقم کاٹنے کی ضرورت نہ ہوتی۔اور نہ صرف کوئی رقم کاٹنے کی ضرورت نہ ہوتی بلکہ سال کے اندراندر ہم اپنے قرضے اُتار لیتے۔اگر پچپیس لاکھ روپیہ کی بجائے ہیں لاکھ روپیہ آمد بھی ہوتی تب بھی ہم اپنا خرچ پورا کرتے اور قرضے بھی اتار لیتے اور پانچ دس سال میں اعلیٰ درجہ کا ریز رو فنڈ قائم ہوکر ہماری اشاعتی حیثیت اور بڑھ جاتی۔ہمارے پاس اس وقت سوا سو کے قریب مبلغ ہیں یا شاید مبلغین کی تعداد اس سے کچھ کم ہو۔بہر حال یہ مبلغ کام کے لحاظ سے اس قد رتھوڑے ہیں کہ غیروں میں تبلیغ تو الگ رہی پاکستان کی جماعتوں کی نگرانی بھی نہیں ہو سکتی۔مثلاً پاکستان میں ہماری انجمنیں 800 سے اوپر ہیں اور سوا سو مبلغین کے معنی ہیں کہ ہمارے مبلغین احمدی جماعتوں میں بھی نہیں پہنچ سکتے۔فرض کرو ہمارے پاس ریز روفنڈ ہو اور پھر چھپیں تمھیں لاکھ روپیہ کا بجٹ ہو تو عملہ کی زیادتی تو بہت کم ہوگی ، خط و کتابت سکولوں اور کالج کے خرچ کی بھی بہت کم زیادتی ہوتی ہے۔اگر عملہ کو ہم انتہا تک بھی پہنچا دیں تو ہمارا بجٹ اخراجات ساڑھے دس لاکھ روپیہ کی بجائے ساڑھے تیرہ لاکھ روپیہ کا ہو جائے گا۔اگر ہماری آمد میں لاکھ روپیہ سالانہ بھی ہو تو ساڑھے چھ لاکھ روپیہ بچ گیا۔اور اگر ایک سو روپیہ ماہوار فی مبلغ کا خرچ رکھ لیا جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ پانچ سو مبلغ زائد کیا جا سکتا ہے۔اگر کچھ روپیہ اشاعت کے لئے رکھ لوتو چار سو مبلغ ہی سہی۔اگر چار سو مبلغ اور بن جائیں تو قریباً ایک سو جماعتوں