خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 155

1952 155 خطبات محمود میں ایک مبلغ ہو جائے گا۔اس طرح ہماری تبلیغ کتنی وسیع ہو جائے گی۔گویا اگر جماعت اپنی ذمہ داری کو صحیح طور پر ادا کرے تو موجودہ جماعت چار سو مبلغ اور رکھ سکتی ہے۔پھر جہاں چارسو مبلغ کام کر رہا ہو اور لٹریچر کی اشاعت بھی بڑھ جائے تو بیعت بھی زیادہ ہوگی اور اس طرح لاکھ دولاکھ روپیہ کی سالا نہ زیادتی ممکن ہے۔اور چار پانچ سال کے اندر عظیم الشان تغیر پیدا ہوسکتا ہے۔اگر ان کی اعداد و شمار کو سامنے رکھ کر کام کیا جائے تو حیرت ناک طور پر ترقی ہو سکتی ہے۔بلکہ اگر جماعت تھی 80 فیصدی ذمہ داری بھی ادا کرے تو چار پانچ سال تک ہمارا سالانہ بجٹ تمہیں لاکھ روپیہ تک پہنچ جائے۔اس طرح ہم بڑی تعداد میں مبلغ بھی رکھ سکتے ہیں اور پھر کافی لٹریچر بھی شائع ہوسکتا ہے ہے۔اب ہمارا بجٹ گیارہ بارہ لاکھ کا ہے۔اگر پچیس لاکھ کا بجٹ ہو جائے تو علاوہ مبلغ بڑھانے کی کے ہم پچاس ہزار روپیہ ماہوار کا لٹریچر شائع کر سکتے ہیں۔اگر ہم زائد مبلغ رکھ لیں اور تین لاکھ روپیہ سالانہ کا لٹریچر شائع کریں تو ہماری آواز دس پندرہ لاکھ آدمیوں تک پہنچ جائے اور دس کی پندرہ لاکھ میں سے بیس تیس ہزار آدمی لے لینا کوئی مشکل امر نہیں۔ہماری غفلت کا نتیجہ ہے کہ جماعت پوری طرح اپنی ذمہ داری کو ادا نہیں کر رہی۔اگر یہ نقشہ غلط نہیں تو یہ بات میری سمجھ میں نہیں آتی کہ اس قسم کی مخلص جماعت جب کپاس کی قیمت 40، 40 روپیہ فی من تک پہنچی ہے۔اگر 15، 16 فیصدی چندہ دیتی ہے تو جب قیمتیں گریں گی تو ان کا کیا حال ہو گا۔یہ جماعت مخلصین کی ہے اور دولت کی فراوانی کے باوجود اگر چندہ میں کی ان کی حالت اتنی افسوسناک ہے تو دوسری جماعتوں کا کیا حال ہوگا۔زمیندار کی اپنی گندم ہوتی ہے۔دیہات میں گوشت ہوتا نہیں۔گوشت کی ضرورت ہو تو مرغی انڈہ کھا کر لوگ گزارہ کر لیتے ہیں۔یا کبھی کبھی کچھ آدمی اکٹھے ہو کر کوئی گائے یا بیل ذبح کر لیتے ہیں ورنہ دال ، ساگ ،گڑ ،شکر پر گزارہ کرتے ہیں۔پھر دودھ، گھی اپنا ہوتا ہے، ایندھن اپنا ہوتا ہے اس طرح کھانے کا خرچ کی بہت کم ہوتا ہے۔پھر آج کل دو اڑھائی ہزار روپیہ فی مربع اوسط آمدن ہے۔سرگودھا کے ضلع میں بعض علاقے ایسے ہیں جن کی زمین ادنی ہے۔باقی علاقوں کی زمین نہایت اعلیٰ ہے۔اور وہاں 25 ، 25 ، 35 ، 35 من فی ایکڑ گندم ہوتی ہے۔پھر بہترین زمین ہونے اور پانی کی زیادتی کی وجہ سے 110 فیصدی بلکہ بعض جگہوں میں 140 اور 150 فیصدی تک زمین بوئی جی