خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 153

1952 153 خطبات محمود یہ حساب بھی غلط بنتا ہے۔اس لئے کہ وصول شدہ چندہ میں سے 13 ہزار سات سو پچاس روپیہ کی رقم شہر سرگودھا کی ہے جس کا چندہ سو فیصدی ادا ہوا ہے۔یعنی جتنے چندے کا وعدہ تھا جماعت نے وہ سو فیصدی دے دیا ہے۔جس کے معنی یہ نکلتے ہیں کہ جماعت کا امیر تعہد سے کام لے رہا ہے اور جماعت کا جتنا حصہ اس کے قریب تھا اس سے اس نے پورا چندہ وصول کر لیا ہے۔اب اگر 75 ہزار روپیہ میں سے 13 ہزار کی رقم نکال لی جائے تو 62 ہزار روپیہ کی رقم باقی رہ جاتی ہے۔اور اگر 30 ہزار میں سے 13 ہزار روپیہ کی رقم نکال دی جائے تو 17 ہزار کی رقم باقی رہ جاتی ہے۔اور کچھ وصولی شہر سرگودھا کو چھوڑ کر چالیس فیصدی نہیں ہوگی بلکہ اندازہ 26 فیصدی کے قریب آ جائے گا اور یہ اندازہ نہایت افسوسناک ہے۔اس سے اس امر کی بھی تصدیق ہوتی ہے کہ میر۔اندازے کے مطابق 25 لاکھ روپیہ چندہ وصول ہونا چاہیے اور موجودہ چندہ کی نسبت سے یہ بات قریب قریب درست نظر آتی ہے۔اس وقت جماعت کا گل چندہ 11۔1/2 لاکھ روپیہ ہے۔اور اگر یہ فرض کر لیا جائے کہ یہ رقم گل چندہ کا 40 فیصدی ہے تو بجٹ 25 لاکھ روپیہ سالانہ تک پہنچ جاتا ہے۔بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ بعض جماعتوں کی وصولی 40 فیصدی بھی نہیں۔اگر ضلع سرگودھا کی جماعتوں میں سے سرگودھا شہر کی جماعت کو نکال دیا جائے تو یہ نسبت بھی قائم نہیں رہتی۔سرگودھا کی جماعت نے سو فیصدی چندہ ادا کر دیا ہے۔گو جلسہ سالانہ کے چندہ میں کچھ کمی کی ہے لیکن عام چندہ اور وصیت کا چندہ اس نے سو فیصدی ادا کر دیا ہے اور ایسی جماعتیں بہت کم ہوتی ہیں۔شوری میں جو فہرست پیش ہوئی تھی اس سے یہ علم نہیں ہوسکتا تھا کہ کسی جماعت نے سو فیصدی چندہ ادا کر دیا ہے۔لیکن اب جو فہرست ضلع سرگودھا کی جماعت کی چھپی ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سرگودھا شہر اور ضلع سرگودھا کی تین چار اور جماعتیں ایسی ہیں جنہوں نے سو فیصدی چندہ ادا کر دیا ہے۔اپنی جگہ پر یہ ایک نہایت عمدہ مثال ہے۔لیکن جو نادہند ہیں انہوں نے بھی کی اپنی جگہ پر کمال کر دیا ہے۔انہوں نے صرف دس ہیں یا تمہیں فیصدی چندہ دیا ہے۔ایسی جماعتیں کی جنہیں میں مخلصوں کی جماعتیں سمجھتا تھا مثلاً چک نمبر 33 اور چک نمبر 35 کی جماعتیں ہیں۔یا چک نمبر 38 چک نمبر 99 کی جماعتیں ہیں۔لیکن سوائے چک 35 کے باقی جماعتوں کے چندہ کی وصولی نہایت خطرناک ہے۔حالانکہ یہ سب لوگ مخلص ہیں ، پرانے قربانی کرنے والے ہی