خطبات محمود (جلد 33) — Page 358
1952 358 خطبات محمود دنیا کے رنج و آلام تمہارے چہروں پر غم کے آثار پیدا نہیں کر سکتے ،مخالفتیں تمہیں قربانی سے پیچھے نہیں ہٹا سکتیں۔اس لئے کہ تمہیں وہ کچھ ملا ہے جو پچھلی تیرہ صدیوں میں دوسروں کو نہیں ملا۔خوش قسمتی سے یہ موقع تمہیں کو کئی صدیوں کے بعد ملا ہے۔صدیاں گزر جاتی ہیں اور یہ مبارک موقع کسی کو نہیں ملتا۔اور صدیاں گزر گئیں یہ موقع کسی کو نہیں ملا۔یہ موقع بڑی قسمت کے ساتھ ملا کرتا ہے۔ایک لحاظ سے دین کا ضعف بھی انسان کے لئے طاقت کا موجب ہوتا ہے۔ان تکالیف اور مصائب کے وقت میں وہی لوگ قربانیاں کرتے ہیں جو خدا تعالیٰ کے مقرب اور محبوب ہوتے ہیں۔جولوگوں کے لئے مثال اور نمونہ بنتے ہیں ، جنہیں آنی والی نسلیں فخر کے ساتھ یاد کرتی ہیں ، ان کے کارناموں کو دیکھ کر وہ حسرت سے دعائیں کرتی ہیں کہ خدا تعالیٰ انہیں ان منجی کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق دے۔تمہیں وہ دن نصیب ہوا ہے تم اسے ضائع نہ کرو تم قربانیاں کرو، دین کی خاطر ہر مصیبت اٹھاؤ اور اسلام کی خدمت کرنے میں برکت تلاش کر و۔خدا تعالیٰ تم سے محبت کرنے لگ جائے گا۔جیسا کہ ہر سال ہوتا ہے میں نے اس سال بھی وعدوں کی آخری تاریخ 21 فروری مقرر کی ہے۔یعنی تمام وعدے 21 فروری تک ہو جانے چاہئیں۔سوائے پاکستان کے باہر کے ملکوں کے جن کے متعلق جلد اعلان کیا جائے گا۔بہر حال ہر ایک احمدی کی کوشش یہی ہونی چاہیے کہ وعد جلسہ سالانہ سے پہلے آجائیں تا آئندہ سال کا بجٹ تیار کرنے میں سہولت ہو۔اب چونکہ تحریک جدید متی ہمیشہ کے لئے ہے اس لئے اگلے سال سے آگے بڑھنے کی جو پابندی تھی وہ نہیں رہے گی۔حالات اور آمد کی تبدیلی پر وعدے میں بھی تبدیلی ہو سکے گی۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ وصیت کی طرح تحریک جدید کے لئے آمد کا کوئی جزو مقرر نہیں۔لیکن یہ ضرور ہے کہ جس طرح وصیت کا چندہ آمد کے کم اور زیادہ ہونے کی وجہ سے بدل جاتا ہے۔مثلاً سوروپے ماہوار آمد ہے تو 10 روپے چندہ وصیت ہوگا اور اگر 60 روپے آمد ہوگئی ہے تو چھ روپے ماہوار چندہ ہوگا اسی طرح تحریک جدید میں بھی حالات کے تبدیل ہو جانے پر تبدیلی ہو سکے گی۔اگر ایک شخص پہلے سو روپے چندہ دیتا تھا اور بعد میں اس کے حالات بدل گئے۔مثلاً ملازم تھا ریٹائر ہو گیا تو اُس کا چندہ تحریک جدید کم ہو سکتا ہے۔ایسے شخص کو چاہیے کہ وہ دفتر سے خط و کتابت کرے اور خط و کتابت کے بعد چندہ کو چ گھٹا لے۔یا آمد زیادہ ہو گئی ہے تو چندہ کو بڑھا لے۔دفتر کو چاہیے کہ وہ ایسے لوگوں کے ساتھ