خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 359

1952 359 خطبات محمود تعاون کرے۔اور جو لوگ مستحق ہیں اور جن کی آمد کم ہو گئی ہے اور وہ اپنا چندہ گھٹانا چاہتے ہیں کی اُن کا چندہ گھٹا دیں۔لیکن ساتھ ہی ہمیں یہ امید بھی رکھنی چاہیے کہ سلسلہ کا لحاظ بھی رکھا جائے۔جہاں سلسلہ کمزور کی تائید کرتا ہے وہاں سلسلہ یہ امید بھی کرتا ہے کہ جو مالدار ہو وہ اپنا چندہ بڑھا بھی دے تا توازن قائم رہے۔اگر بعض لوگ چندہ کم کر دیں تو بعض لوگ چندہ کو زیادہ کر دیں۔زندہ قوموں میں یہی ہوتا ہے۔بہر حال یہ یاد رکھیں کہ اب یہ پابندی نہیں ہوگی کہ ہر شخص ہر سال وعدہ میں کچھ زیادتی کرے۔اگر آمد ا چھی ہو جائے تو چندہ زیادہ کر دو۔اور اگر آمد کم ہو جائے تو دفتر سے خط و کتابت کی کر کے اپنا چندہ گھٹا دو۔اس میں شرم نہ کیا کرو اس سے آپ لوگ گنہگار بنیں گے۔جب آمد کم ہو جائے تو یہ غلطی نہ کریں کہ آپ چپ چاپ بیٹھ جائیں۔بعض لوگ آٹھ آٹھ سال سے چندہ ادا نہیں کر رہے ہوتے لیکن لکھ دیتے ہیں کہ پچھلے سال میرا پانچ سو روپے کا وعدہ تھا بعض وجوہات کی کی وجہ سے میں ادا نہیں کر سکا۔اس سال میں ایک ہزار روپے کا وعدہ کرتا ہوں۔اگلے سال وہ کچی ہزار روپے بھی ادا نہیں کرتے اور ڈیڑھ ہزار کا وعدہ کر دیتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ جب تم نے چندہ ادا ہی نہیں کرنا تھا تو سیدھا 10 کروڑ کا وعدہ کیوں نہ کر دیا۔یونہی رقوم لکھ دینے سے کچھ نہیں بنتا۔مثلاً میرا خیال ہے کہ ہمارے جلسہ سالانہ پر اتنا خرچ نہیں ہوتا جتنا حساب میں دکھایا جاتا ہے۔ہر شخص جو سمجھتا ہے کہ جس نے بارہ کس کی حاضری مانگی ہے تو گو وہ غلطی ہو مگر اُس کے لکھے رہنے سے سلسلہ کی عظمت ہوتی ہے کیونکہ مہمانوں کی آمد زیادہ نظر آتی ہے۔حالانکہ کام کرنے والوں کو چاہیے کہ وہ صحیح اندازہ لگائیں تا کہ جلسہ کا خرچ ان غلط اعداد کی وجہ سے بڑھ نہ جائے۔پس دفتر کے کارکن وعدوں کو چیک کر لیں۔اگر کسی شخص کی یہ حالت ہے کہ وہ وعدہ ادا نہیں کرسکتا تو اُس کو رد کر دیا جائے۔بعض خوشیاں جھوٹی ہوتی ہیں۔حقیقی خوشی یہ ہے کہ انسان کو کی نیکی کی توفیق ملے۔یہ نہیں کہ پانچ چھ ہزار روپیہ لکھا دے اور ادا کچھ بھی نہ کیا جائے۔اگر حالات کی ٹھیک نہیں ، مالی حالت کمزور ہوگئی ہے تو دفتر سے کہو کہ پچھلا چندہ معاف کر دو اور آئندہ حالات کے مطابق وعدہ کرو۔اگر پہلے سو روپے کا وعدہ تھا لیکن وہ ادا نہیں ہوا تو اُس کی معافی لے لی جائے اور آئندہ اپنی مالی حالت کے مطابق چاہے وہ پانچ روپے ہو وعدہ لکھایا جائے تو یہ زیادہ بہتر ہو گا۔لیکن جماعتی طور پر یہ کوشش ہونی چاہیے کہ قدم آگے بڑھے۔جماعت دن بدن بڑھ