خطبات محمود (جلد 33) — Page 357
1952 357 خطبات محمود۔کے مربی ہو اور تم ہی اس کے محافظ ہو۔اس کا ولی اور محافظ تمہارے سوا اور کوئی نہیں۔نہ کوئی آج کچی تمہارے سوا اسلام کی خبر پوچھنے والا ہے، نہ کوئی اس کی خاطر قربانی کرنے والا ہے ، اور نہ کوئی کی اس سے محبت کرنے والا ہے۔اگر تم غفلت کرو گے تو یہ مُردہ ہو جائے گا۔اور اگر تم ہوشیار رہو گے تو یہ جئے گا۔اگر اس کی خاطر قربانی کرو گے تو تم کرو گے۔لیکن یاد رکھو اگر تم دین کے لئے قربانی کرو گے تو تم بھی زندہ رہو گے۔کیونکہ جو شخص خدا تعالیٰ اور اُس کے دین کی خاطر قربانی کرتا ہے خدا تعالیٰ اُسے مرنے نہیں دیتا۔دنیا میں لوگوں پر فاقے آتے ہی ہیں، لوگوں پر مصائب اور آفات آتی ہی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ پر بھی فاقے آئے، مصائب آئے ، آفات آئیں اور ہم پر بھی مصائب، تکالیف اور فاقے آئیں گے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ نے اُن فاقوں اور آفات و مصائب میں بھی دین کی خاطر قربانی کرنے کی سے دریغ نہیں کیا۔ہمیں بھی اُن کی طرح نمونہ دکھانا ہو گا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک نجی دفعہ کسی غرض کے لئے صحابہ سے چندہ مانگا۔حضرت علی باہر گئے۔گھاس کاٹا اور اسے بیچ کر جو ؟ قیمت ملی وہ چندہ میں دے دی۔اسی طرح ایک صحابی ایک کنویں پر تشریف لے گئے اور وہاں جا کر لوگوں کا پانی بھرا اور اس کی جو اُجرت ملی وہ چندہ میں دے دی۔اُس وقت لوگ ان کی حقیر قربانی پر ہنسے۔لیکن وہ تمسخر کی وجہ سے ہنسے۔اس کے مقابلہ میں خدا تعالیٰ بھی آسمان پر ہنسا۔لیکن کی وہ خوشنودی کی وجہ سے ہنسا۔لوگ کہتے تھے کہ یہ لوگ کیسے حقیر ہیں۔یہ اس بات پر ناز کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے دین کی خاطر مٹھی بھر کو دے دیئے۔اس سے وہ دنیا پر فتح حاصل کر لیں گے؟ لیکن خدا تعالیٰ بھی آسمان پر ہنسا اور اُس نے کہا یہ کمزور انسان بھی کس طرح قربانی کرتے ہی ہیں، یہ کتنی بلند پروازی کرتے ہیں، یہ چوٹی کو پاؤں تلے روند کر میرے عرش پر ہاتھ مارتے ہیں۔غرض ہنسے دونوں ہی۔خدا تعالیٰ بھی ہنسا اور لوگ بھی ہنسے۔لیکن ایک اعجاب کی بناء پر ہنسا اور ایک تمسخر کی وجہ سے ہنسا۔اور اس میں کیا شبہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی ہنسی ہی پوری ہوتی ہے۔تمہیں خدا تعالیٰ نے وہ موقع عطا فرمایا ہے جو سال دو سال میں تو کیا دوسرے لوگوں کو صدیوں میں بھی میسر نہیں آیا۔یہ عید سینکڑوں سال کے بعد آئی ہے۔عام عید آتی ہے تو لوگ گھروں میں خوشیاں مناتے ہیں، ان کے چہروں پر خوشی کے آثار نمایاں ہوتے ہیں لیکن تمہاری کی عید اور تمہارا چاند تو نرالا ہے۔دنیا کے مصائب اور آفات تمہارے دلوں کو افسردہ نہیں کر سکتیں،