خطبات محمود (جلد 33) — Page 356
1952 356 خطبات محمود۔مختلف قسم کے بہانے بنادیتے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض بچے اپنے ماں باپ کی خدمت کی بھی کرتے ہیں۔لیکن ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ وہ خود تکلیف اٹھا ئیں ، فاقہ کریں اور اپنے ماں باپ کی کو کھلائیں۔بالعموم یہی ہوتا ہے کہ کچھ زائد بچ گیا تو دے دیا۔اور بعض بچے تو اتنے بے حیا ہوتے ہیں کہ بچا ہوا بھی ماں باپ کو نہیں دیتے۔پس کم سے کم ماں جتنی محبت تو ہمیں دین سے ظاہر کرنی چاہیے۔خدا تعالیٰ ہم سے ماں سے بھی زیادہ محبت کرتا ہے۔ہمیں خدا تعالیٰ تو نظر نہیں آتا۔اُس کا دین نظر آتا ہے اس لئے ہمارا فرض ہے کہ ہم ماں سے زیادہ دین سے محبت کریں۔اور اگر زیادہ محبت نہیں کر سکتے تو کم از کم ماں جتنی محبت تو کریں۔غالباً جنگ بدر کا واقعہ ہے کہ جنگ کے بعد رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو ایک عورت کی طرف توجہ دلائی جس کا بچہ گم ہو گیا تھا۔وہ اپنا بچہ تلاش کر رہی تھی اُسے کوئی بچہ نظر آتا تو وہ اس کے پاس دوڑ کر جاتی۔اُسے اٹھالیتی اور پیار کرتی۔پھر آگے چلی جاتی۔یہاں تک کہ اُسے اپنا بچہ مل گیا۔اس نے اسے پیار کیا۔پھر اُسے لے کر ایک پتھر پر بیٹھ گئی۔اُسے یہ خیال بھی نہیں تھا کہ لڑائی ہورہی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تم نے دیکھا اس عورت کا بچہ گم ہو گیا تھا۔وہ کسی اور کا بچہ دیکھتی تو اُسے پیار کرتی اور کچ آگے چلی جاتی۔لیکن جب اسے اپنا بچہ مل گیا تو اس نے اسے گلے لگایا، پیار کیا اور آرام سے ایک پتھر پر بیٹھ گئی۔اسے اس بات کا ذرا بھی احساس نہ رہا کہ عرب پر تباہی آئی ہے، اس کی قوم کے بڑے بڑے جرنیل مارے گئے ہیں۔آپ نے فرمایا اگر خدا تعالیٰ کا کوئی گمراہ بندہ اُس کی طرف لوٹ آتا ہے تو اُسے اس ماں سے بھی زیادہ خوشی ہوتی ہے۔4 پس ایسا محبت کرنے والا اور چاہت دکھانے والا خدا تعالیٰ ہمیں نظر نہیں آتا۔لیکن اُس کا دین تو نظر آتا ہے۔ہمارے دل میں دین کی محبت ماں کی محبت سے زیادہ ہونی چاہیے۔اور اگر زیادہ نہیں تو ماں جتنی تو ہو۔جس کو فاقہ تھا، بھوک لگی تھی ، ایک کھجور ملی تو اُس نے چکھی نہیں بلکہ نصف نصف کر کے اپنی لڑکیوں میں بانٹ دی۔پس بے شک یہ دن قحط کے ہیں، مصائب کے ہیں ، آفات کے ہیں۔لیکن دین کی خدمت کرنے والا بھی تو تمہارے سوا اور کوئی نہیں۔اگر دین کو فاقے مارو گے تو تم ہی مارو گے۔اور اگر اسے پالو گے تو تم ہی پالو گے۔اگر اس کی خاطر فاقہ کرو گے تو تم ہی کرو گے۔اور کوئی قربانی کرو گے تو تم ہی کرو گے ، اور کوئی نہیں کرے گا۔اس کا وجود خدا تعالیٰ نے تمہارے سپر د کیا ہے۔تم ہی اس کے ولی ہو، تم ہی اس کے متکفل ہو تم ہی اس کی