خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 355 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 355

1952 355 خطبات محمود عقیدے لے لیں گے اور کفر ہم پر لگا دیں گے۔مگر پھر نو جوانوں کا ایسا طبقہ آئے گا جو کہے گا کہ تو وہی باتیں ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے کہی ہیں اس لئے آپ پر کفر کا فتویٰ لگانے کے کیا معنی ! ان کو ماننا چاہیے۔پس تحریک جدید خدا تعالیٰ کے فضل اور برکت سے آئی ہے اور ہر شخص کو اس میں حصہ لینے کی کوشش کرنی چاہیے۔میں نے پچھلی دفعہ کہا تھا کہ یہ قحط کا زمانہ ہے مصائب اور آفات کا زمانہ ہے لیکن جس طرح ایک ماں اپنے آپ کو فاقہ میں رکھتی ہے لیکن اپنے بچہ کو فاقہ نہیں آنے دیتی۔اسی طرح تم بھی دین سے ماں جیسی محبت کرو۔تم خود فاقہ کرو لیکن دینی کاموں میں سستی نہ آنے دو۔احادیث میں آتا ہے کہ ایک دفعہ حضرت عائشہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا یا رسول اللہ! آج ایک بات کو دیکھ کر مجھے بڑی تکلیف ہوئی اور میرے دل پر اس کا گہرا اثر ہے۔یا رسول اللہ ! ایک غریب عورت آج میرے پاس آئی۔اُس کے دائیں اور بائیں دو بچے تھے۔اُس نے میرے پاس آکر کہا میں بھوکی ہوں مجھے کھانے کو کچھ دو۔میرے پاس کچھ نہیں تھا۔میں نے کہا اچھا دیکھتی ہوں۔اگر کچھ کھانے کو ہوا تو تمہیں دیتی ہوں۔یا رسول اللہ ! مجھے سوائے ایک کھجور کے اور کچھ نہ ملا۔اُس عورت کا چہرہ سوکھا ہوا تھا اور اُس کے چہرے پر بھوک کی وجہ سے اضمحلال کے آثار تھے۔میں نے اُسے وہ کھجور دے کر کہا میرے پاس یہی ایک کھجور ہے اس کے سوا اور کچھ نہیں۔يَا رَسُولَ الله ! اُس عورت نے اُسی وقت دانتوں سے اُس کھجور کے دو حصے کئے۔اور ایک حصہ ایک بچہ کو دے دیا اور دوسرا حصہ دوسرے بچے کو دے دیا۔يَا رَسُولَ الله ! اُس نے خودا سے چکھا بھی نہیں 2۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تبھی تو خدا تعالیٰ نے ماؤں کے قدموں کے نیچے جنت رکھی ہے۔3 پس مائیں خود بھوکی رہتی ہیں۔لیکن بچے کو بھوکا نہیں کی رہنے دیتیں۔کیا ہمارا ایمان ہمیں اتنا سبق بھی نہیں دیتا کہ ہم ماؤں سے زیادہ نہیں تو ماؤں جتنی ہی خدا تعالیٰ کے دین سے محبت کریں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دفعہ حضرت عمر کی آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا وجہ ہے کہ ہم بچوں کے لئے اتنی قربانیاں کرتے ہیں لیکن بچے کی ہمارے لئے کوئی قربانی نہیں کرتے ؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا لطیف جواب دیا۔فرمایا کی اس لئے کہ ہم نے بچوں کو جنا ہے بچوں نے ہمیں نہیں جنا۔ماں باپ واقع میں بچوں کے لئے بہت کچھ کرتے ہیں لیکن بچے اس کا خیال نہیں رکھتے۔