خطبات محمود (جلد 33) — Page 290
1952 290 خطبات محمود ضرور ہوتی ہے۔ارادہ رکھنے والے لوگ بے حرکت نہیں ہوتے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں قیامت کے دن لوگ پل صراط کے اوپر - جو بال سے بھی زیادہ باریک اور تلوار کی دھار سے بھی زیادہ تیز ہوگی گزریں گے۔کچھ لوگ تو ایسے ہوں گے کہ وہ پل صراط پر سے بجلی کی طرح گزر جائیں گے۔کچھ ہوا کی تیزی کی طرح اس پر سے گزر جائیں گے۔کچھ گھوڑے کی طرح دوڑتے ہوئے اس پر سے گزر جائیں گے۔کچھ لوگ تیزی سے چلتے ہوئے اس پر سے گزر جائیں گے۔کچھ ایسے لوگ ہوں گے جو گھسٹتے ہوئے اس پر سے گزر جائیں گے 1۔در حقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حدیث میں مومن محج کی کوششوں کا نقشہ کھینچا ہے۔بعض لوگ اس بے وقوفی کی امید میں ہیں کہ قیامت کے دن منجی خدا تعالیٰ ایک لمبی تلوار لے کر ایک پل بنائے گا۔اُس تلوار کی دھار پر سے کوئی گھوڑے کی طرح انجی دوڑتا ہوا نکل جائے گا ، کوئی آدمی کے تیز دوڑنے کی طرح دوڑتا ہوا نکل جائے گا ، کوئی آدمی کے کی چلنے کی طرح چل کر اس پر سے گزر جائے گا اور کوئی سرینوں کے بل گھسٹتا ہوا اُس پر سے گزر جائے گا۔مگر کیا تلوار کی دھار جیسے تیز پل پر سے گزرنا ممکن بھی ہے؟ کیا بال سے بار یک پل پر سے گزرنا انسان کی طاقت میں ہے؟ ذرا ایک بال پر گھٹنے رکھ کر دیکھو تم اسے کتنا بھی مضبوط اتصور کر لو۔کیا تم اُس پر ایک کے بعد دوسرا گھٹنہ رکھ سکتے ہو۔نٹ 2 رستے باندھ کر اُن پر نا چا کرتے ہیں۔لیکن نٹ بھی رستوں پر ناچتے ہیں بال پر یا تلوار کی دھار پر نہیں۔پھر بجلی کی طرح چلنا تو انسان کی طاقت میں نہیں۔ہوا کی طرح اڑنا انسان کی طاقت میں نہیں۔بے شک احادیث ، پتا لگتا ہے کہ قیامت کے دن بعض لوگ پل صراط پر سے بجلی کی طرح تیزی سے گزریں گے۔اور گزشتہ انبیاء کی روایات سے بھی پل صراط پر سے تیز دوڑ کر گزرنے کا پتا لگتا ہے۔لیکن یہ سب تمثیلی زبان ہے۔اور پھر سوال یہ ہے کہ ہم اگلے جہان میں وہ گڑھا کہاں پائیں گے جس کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ہمیں پل سے گزر کر جانا ہو گا۔وہ پل کن دو سروں کو ملاتا ہو گا ؟ اس دنیا اور اگلی دنیا کا تو آپس میں کوئی تعلق نہیں۔یہ دنیا جسمانی ہے اور اگلی دنیا روحانی۔اس لئے اس دنیا سے اگلی دنیا میں جانے کے لئے کسی پل کی ضرورت ہی نہیں۔عزرائیل جان نکالتا ہے اور انسان اگلے جہان میں چلا جاتا ہے۔لاکھوں انسان ہر روز اگلے جہان میں جاتے ہیں۔ان کے جانے کے لئے کسی پل کی ضرورت نہیں۔وہ پل جو بال سے