خطبات محمود (جلد 33) — Page 291
1952 291 خطبات محمود زیادہ باریک ہوگا ہمیں تو نظر نہیں آتا۔وہ پل جو تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ہوگا ہمیں دکھائی نہیں تھی دیتا۔وہ پل جس پر سے لاکھوں روحیں روزانہ جاتی ہیں کسی نے نہیں دیکھا۔پھر یہ پل کس لئے ؟ ہے؟ اگر یہ پل انسانوں کے گزرنے کے لئے ہے تو لاکھوں روحیں روزانہ اگلے جہان جاتی ہیں۔ہم دیکھتے ہیں کہ ان کے جانے کے لئے کسی پل کی ضرورت نہیں ہوتی۔عزرائیل آتا اور جان نکالتا ہے۔روح اگلے جہان کو پرواز کر جاتی ہے اور جسم اس مادی دنیا میں رہ جاتا ہے۔ان لاکھوں روحوں کے لئے جو اس جہان سے دوسرے جہان میں جاتی ہیں کسی پل کی ضرورت ہے نہیں۔پھر انسان کے لئے اگلے جہان میں کسی پل کی کیا ضرورت ہوگی۔دراصل یہ تمثیلی زبان ہے۔نادانوں نے اسے حقیقت سمجھ کر مادیات کی طرف لے جانے کی کوشش کی ہے۔حالانکہ اگر اسے مادیات کی طرف لے جایا جائے تو یہ بات ہنسی کے قابل بن جاتی ہے۔درحقیقت یہ پل صراط وہ فاصلہ ہے جو مادیت اور روحانیت کے درمیان ہے۔پل صراط وہ فاصلہ نہیں جو اس دنیا اور دوسری دنیا کے درمیان ہے کیونکہ لاکھوں روحیں روزانہ بغیر کسی پل کے جارہی ہیں۔لیکن یہ چیز کہ انسان مادی دنیا سے روحانی دنیا کی طرف کس طرح جاتا ہے اس کے سمجھانے کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تمثیلی زبان اختیار کی اور فرمایا کہ مادیت سے روحانیت کی طرف انسان ایک پل کے ذریعہ جاتا ہے جو بال سے زیادہ باریک اور تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ہے۔جس طرح اُس پل پر جو بال سے زیادہ باریک اور تلوار کی دھار سے زیادہ تیز ہو چلنا مشکل ہوتا ہے اسی طرح مادیت کو روحانیت سے بدلنا مشکل ہوتا ہے۔لیکن باوجود اس کے کہ مادیت کو روحانیت سے بدلنا نہایت مشکل ہے۔بعض لوگ جو اولوالعزم ہوتے ہیں وہ مادیت اور روحانیت کے درمیانی فاصلہ کو بجلی کی طرح طے کر جاتے ہیں۔بعض لوگ جن میں عزم تو ہوتا ہے لیکن وہ زیادہ پختہ نہیں ہوتا وہ اسے ہوا کی طرح تیز اڑا کر طے کر جاتے ہیں۔کچھ لوگ پختہ ارادہ رکھتے ہیں لیکن اُن میں عزم نہیں ہوتا وہ گھوڑوں کی طرح کی تیز دوڑتے ہوئے اسے پار کر جاتے ہیں۔کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے ارادے زیادہ پختہ اور اعلیٰ نہیں ہوتے وہ انسانوں کی طرح دوڑتے ہوئے اس فاصلہ کو طے کر جاتے ہیں۔کچھ لوگ کمزور ارادہ کے ہوتے ہیں وہ چلتے ہوئے اس فاصلہ کو طے کرتے ہیں۔کچھ لوگ بہت کمزور ارادہ کے ہوتے ہیں وہ گھسٹ کر اس فاصلہ کو طے کرتے ہیں۔ان کی ایک نماز اور دوسری نماز کی