خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 74

1952ء 74 خطبات محمود - اپنی خوشی سے کرتا تھا لیکن آپ کا یہ حق نہیں تھا کہ آپ مجھے حکم دیتے ۔ میں آپ کا غلام نہیں ہوں ۔ مجھے علم پس جو شخص خوشی سے خدمت کرتا ہے اُس پر کوئی شخص اعتراض نہیں کر سکتا ۔ لیکن جو افسر یہ سمجھتا ہے کہ فلاں شخص میرا ماتحت ہے اس سے خدمت لے لوں وہ ظالم ہے۔ اور اگر اُس کا ما تحت اُس کا حکم مانتا ہے تو وہ بے غیرت ہے ۔ محبت سے اگر کوئی کام کرتا ہے چاہے وہ پاخانہ کا پاٹ اٹھائے تو اُس پر کوئی اعتراض نہیں کرتا ۔ میاں بیوی کو دیکھ لو ۔ بیوی اپنے خاوند کی خدمت کرتی ہے، اس کے پاٹ بھی اٹھا لیتی ہے۔ لیکن اگر کوئی اُسے کہے کہ تم چوڑھی کا کام کرو میں تمہیں دس روپے ماہوار دوں گا تو وہ لڑنے لگ جائے گی ۔ بلکہ اس کا خاوند خود اس شخص سے لڑ پڑے گا اور کہے گا تم نے میری بیوی کی بہتک کی ہے حالانکہ وہ اپنے بچے کا پاخانہ روزانہ پھینکتی انے جنگ ہے۔ پھر باقی لوگوں کو جانے دو چوڑھے بھی اپنی تحقیر برداشت نہیں کر سکتے ۔ ربوہ میں ایک مسلمان خاکرو بہ آئی ہے۔ شروع شروع میں ربوہ میں خاکروب کم تھے ۔ وہ سڑک پر جا رہی تھی کہ ایک آدمی اُسے ملا اور اُس نے کہا ذرا ٹھہرو۔ میرا ایک کمرہ ہے تم اُسے روزانہ صاف کر دیا کرو میں تمہیں آٹھ آنے دے دیا کروں گا۔ وہ خاکروبہ تھی اور صفائی کرنا اُس کا کام تھا لیکن چونکہ وہ سڑک پر جا رہی تھی اس لئے اُس نے اس بات کو اپنی ہتک خیال کیا۔ اور اس شخص کو کہنے لگی کہ میں تمہیں دو روپے روزانہ دیا کروں گی تم مجھ سے ایک جوتی روزانہ کھا لیا کرو۔ وہ سخت شرمندہ ہوا اور خاموش ہو کر چلا گیا ۔ غرض باوجود اس کے کہ وہ خاکرو بی تھی اور اُس کا کام صفائی کرنا تھا اُس نے اس طرح بات کرنے کو اپنی تحقیر خیال کیا ۔ پس اگر واقعہ میں افسر اپنی افسری کی وجہ سے ماتحت سے خدمت لیتے ہیں تو اُن کی تحقیر کرتے ہیں اور پھر ماتحت کا خدمت کرنا بھی بے غیرتی ہے ہے۔ اس کا یہ کام تھا کہ وہ اُسکے اس حکم کو رد کر دیتا۔ لیکن محبت کی وجہ سے تم جو جی چاہے کرو۔ کورد تم ہمایوں کا ایک واقعہ مشہور ہے کہ دشمن کی فوجوں نے اُسے پکڑ لیا۔ اُس کا خادم بہرام بھی اُس کے ہمراہ تھا۔ جب دشمن نے انہیں پکڑ لیا تو بہرام نے انہیں کہا کہ ہمایوں میں ہوں ۔ ہمایوں بار بار کہتا تھا کہ نہیں یہ جھوٹ بولتا ہے ہمایوں میں ہوں ۔ لیکن اُس نے کہا نہیں یہ میرا غلام ہے اور میری محبت کی وجہ سے اپنے آپ کو ہمایوں کہہ رہا ہے تا کہ میں بچ جاؤں ورنہ دراصل میں ہی ہمایوں ہوں ۔ غرض محبت میں لوگ اپنی جانیں بھی دے دیتے ہیں اور ان کے ایسا کرنے پر