خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 75 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 75

1952 75 خطبات محمود کوئی شخص اعتراض نہیں کرتا۔لیکن اگر کوئی اپنی پوزیشن سے ناجائز فائدہ اٹھاتا ہے تو اُس کا ایسا کی کرنا اسلام کے خلاف ہے۔ہر احمدی کا فرض ہے کہ وہ دوسرے کا حق اُسے دلائے۔اور اگر وہ اسکی خاطر قربانی کرتا اور اس کی خدمت کرتا ہے تو کوئی حرج نہیں لیکن اس کا حق نہیں کہ ماتحت سے خدمت کروائے۔فرعون کے متعلق قرآن کریم میں بھی آتا ہے کہ اِنَّ فِرْعَوْنَ عَلَا فِي الْأَرْضِ - 3 فرعون میں یہ عیب تھا کہ وہ دوسروں سے زبر دستی کام لیتا تھا۔ورنہ فرعون کے یہ معنی نہیں کہ کسی کی کے پاس بادشاہت اور دولت ہو۔وہ اس لئے فرعون تھا کہ دوسروں پر زبر دستی حکومت کرتا تھا تجھے اور دوسروں پر ز بر دستی حکومت کرنے کو ہماری زبان میں بھی فرعونیت کہتے ہیں۔اور کسی کی مرضی سے دوسرے کے دل پر حکومت کرنے کو محمدیت اور موسویت کہتے ہیں۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی حکومت کی تھی اور فرعون سے بڑھ کر حکومت کی تھی۔فرعون کے ساتھی بھاگ گئے لیکن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں نے کہا ہم آپ کے دائیں بھی لڑیں گے اور بائیں بھی لڑیں گے ، آگے بھی لڑیں گے اور پیچھے بھی لڑیں گے اور دشمن ہماری لاشوں پر سے ہی گزر کر آپ کی تک پہنچ سکتا ہے۔4 اتنی حکومت فرعون نے کہاں کی ہے۔فرق صرف اتنا ہے کہ فرعون نے کی زبر دستی حکومت کی ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زبر دستی حکومت نہیں کی۔اسی طرح اگر کوئی ماتحت اپنے افسر کی محبت اور پیار سے خدمت کرتا ہے تو ہم کہیں گے اُس افسر میں ایک حد تک محمدیت اور موسویت آگئی ہے۔لیکن اگر وہ زبر دستی حکومت کرتا ہے تو اسی کا نام فرعونیت ( الفضل 30 ستمبر 1961ء) ہے۔66 1 : تفسیر کبیر رازی جلد 29 صفحہ 207 مطبوعہ طہران 1328ھ 2 : بخارى كتاب النكاح باب الْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا۔3: القصص : 5 4 بخاری کتاب المغازی باب قَولُ اللهُ تَعَالَى إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمُ (الخ)