خطبات محمود (جلد 33) — Page 51
1952 51 خطبات محمود ساتھ کوئی تعلق نہیں ، ان سے خواہ تم کتنا دور ہو سچائی تمہارے ساتھ رہے گی۔زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ اگر کوئی بیٹا باپ کا مخالف ہو جائے گا تو چونکہ خدا تعالیٰ نے ماں باپ کے ادب کرنے کا کی حکم دیا ہے اس لئے وہ ایک سچائی کا منکر ہوگا۔باقی سچائیاں اس کے ساتھ رہیں گی۔پس یہ حماقت کی ہے کہ انسان محض محبت کا خیال رکھے اور عقل سے کام نہ لے کیونکہ ایک وقت ایسا بھی آتا ہے کہ محبت انسان کو تباہ کر دیتی ہے۔ہمارے ملک میں ایک قصہ مشہور ہے کہ ایک لڑکے کو چوری کی عادت پڑ گئی تھی۔ایک دفعہ جب وہ چوری کرنے کے لئے گیا تو اس نے ایک شخص کو قتل کر دیا اور اس کی وجہ سے اسے پھانسی کی سزادی گئی۔یوں قانون تو نہیں لیکن رواج ہے کہ پھانسی دینے سے قبل مجرم سے کہا جاتا ہے کہ اگر اس کی کوئی خواہش ہو تو اس کا اظہار کر دے۔اسی طرح اس لڑکے سے بھی کہا گیا کہ اگر تمہاری کوئی خواہش ہے تو بتا دو تو اُس نے کہا میں اپنی ماں کا اکلوتا بیٹا ہوں میری خواہش ہے کہ آخری بار میں اُس سے ملاقات کرلوں۔چنانچہ اس کی ماں کو بلایا گیا۔لڑکے نے کہا میں اپنی ماں کی کے کان میں کچھ کہنا چاہتا ہوں مجھے اجازت دی جائے۔چنانچہ اُسے اجازت دے دی گئی۔لیکن جو نہی ماں نے اپنا کان اُس کے منہ کے قریب کیا اُس نے اس کے گلے پر زور سے دانت مارے اور گوشت کا ایک ٹکڑا کاٹ لیا۔جو لوگ وہاں موجود تھے اُنہوں نے کہا کم بخت! تجھے معلوم ہے کہ کل تجھے پھانسی کی سزا دے دی جائے گی پھر تو نے آخری وقت میں اپنی ماں کے ساتھ یہ کی سلوک کیوں کیا ؟ اس وقت تو خدا تعالیٰ کا کچھ خوف کیا ہوتا۔اُس لڑکے نے کہا میں نے کل اپنی ماں کے فعلوں کی وجہ سے پھانسی کی سزا پانی ہے۔میں بچپن میں اپنے ساتھیوں کو دق کرنے کے لئے ان کی پنسلیں اور دوا تیں اٹھالا یا کرتا تھا اور جب مالک ہمارے گھر آتا اور اس سے کہتا کہ تمہارے بیٹے نے میری فلاں فلاں چیز چرائی ہے وہ مجھے دے دو۔تو یہ اُسے گالیاں دیتی اور کہتی ہی تم نے کیا میرے بیٹے کو چور سمجھ رکھا ہے؟ چنانچہ وہ واپس چلا جاتا اور وہ چیزیں میرے کام آتیں۔اس طرح آہستہ آہستہ مجھے چوری کی عادت پڑ گئی۔اگر اسے پتا لگ جاتا کہ کسی کی کوئی چیز میرے پاس موجود ہے تو بسا اوقات اسے چھپاتی تا مالک معلوم نہ کر سکے کہ میں نے اس کا سامان چرایا ہے اور اس طرح اس بُری عادت میں میری مدد کرتی۔پھر مدرسہ کی چوریوں سے