خطبات محمود (جلد 33) — Page 52
1952 52 خطبات محمود بڑی چوریوں کی عادت پڑی۔اور ایک چوری کے موقع پر میں نے ایک شخص کو مار دیا جس کی وجہ سے کل مجھے پھانسی کی سزا ملے گی۔پس اس پھانسی کا موجب میری ماں ہے۔غرض محبت یعنی غلط محبت بعض اوقات انسان کو پھانسی تک لے جاتی ہے۔سمجھنے والا سمجھتا ہے کہ وہ اپنے دوست یا عزیز سے ہمدردی کر رہا ہے لیکن وہ اسے تباہ کر رہا ہوتا ہے۔پس جہاں محبت انسان کو حماقت میں مبتلا کر دیتی ہے وہاں عقل انسان کو وہم میں مبتلا کر دیتی ہے اور کسی کی دوست یا رشتہ دار کے پاس اس کا اٹھنا بیٹھنا ناممکن ہو جاتا ہے۔بیوی مٹھائی بناتی ہے تو وہ سمجھتا کی ہے شاید اس نے اس میں زہر ملا دیا ہو۔اور جب وہ محبت کو عقل کے ساتھ نہیں ملا تا تو عقل آوارہ کی ہو جاتی ہے۔میں نے یہاں دیکھا ہے کہ لوگ عام طور پر بدظنی میں مبتلا ہیں۔کارکن ماتحتوں کے معاملات پر ہمدردانہ غور نہیں کرتے اور یہ کوشش نہیں کرتے کہ وہ دوسرے سے معاملہ کرتے وقت حُسنِ ظنی سے کام لیں اور جب تک کوئی ثبوت نہ ملے اس کے خلاف کوئی کارروائی نہ کریں۔اس کی طرح دوسرے لوگ ہیں ہر ایک کو یہ خیال ہے کہ کارکن ان کے ساتھ بے ایمانی کرتے ہیں۔لوگ آتے ہیں اور میرے پاس شکایات کرتے ہیں اور بعض دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ میں ان کی شکایات سے متاثر ہو جاتا ہوں۔لیکن اکثر دفعہ جب تحقیقات کی جاتی ہے تو یہی معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے محض بدظنی سے کام لیا ہے ورنہ بات کچھ بھی نہیں ہوتی۔حالانکہ مومنوں کے آپس کے تعلقات ایسے ہونے چاہیں کہ كَأَنَّهُمْ بُنْيَانٌ مَّرْصُوص 4 گویا وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔اس میں کوئی رخنہ نہیں۔اگر تمہارے آپس کے تعلقات ایسے نہیں ہونگے تو تمہاری طاقت ضائع ہو جائے گی۔جب تم اپنے ساتھی پر بدظنی کرو گے تو تم دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ نہیں کر سکو گے۔تمہارے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہو گا کہ میرے ساتھی نے میرے ساتھ کون سی نیکی کی ہے کہ میں اس کے لئے قربانی کروں۔نتیجہ یہ ہوگا کہ دشمن کو موقع مل جائے گا اور وہ تمہیں ایک ایک کر کے مار دے گا اور تبلیغ رک جائے گی۔کیونکہ جس شخص کو بدظنی کی عادت ہوتی ہے وہ اُسے اپنے دوستوں میں پھیلاتا ہے اور انہیں کہتا ہے کہ فلاں بڑا بے ایمان ہے اور سمجھتا یہ ہے کہ وہ ان سے ہمدردی کر رہا ہے۔پھر آہستہ آہستہ وہ دوستوں سے دشمنوں کی طرف جاتا ہے اور انہیں کہتا ہے فلاں بڑا بے ایمان ہے۔اور جب دشمن کو یہ پتا لگ جاتا ہے کہ یہ لوگ آپس میں پھٹ گئے ہیں کہ