خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 307 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 307

1952 307 خطبات محمود موجود ہیں۔مثلاً تافتہ ہے، زربفت ہے محمل ہے۔سینکڑوں سال پہلے ہمارے آباء واجداد بہ کپڑے پہنتے تھے اور آج بھی لوگ یہ کپڑے پہنتے ہیں۔لیکن اس کے مقابلے میں یورپ کو دیکھ لو۔اگر کسی کو ایک کپڑا پسند آ گیا ہے اور وہ اگلے سال وہی کپڑا تلاش کرنے نکلے تو وہ کپڑا اُسے نہیں ملے گا۔اگر کوئی بازار جائے اور دکاندار سے کہے کہ مجھے اس کوٹ کا کپڑا پسند ہے یہ کپڑا مجھے دو۔تو وہ دکاندار کہے گا بارہ ماہ قبل اس کا رواج تھا آج تو اس کا رواج نہیں۔آج کل اور ڈیزائن آگئے ہیں۔غرض تافتہ ، دمشقی مشتمل اور زربفت کے کپڑے جو ہزاروں سال پہلے کے ہیں۔وہ تو آج بھی ملتے ہیں لیکن یورپ کا بنا ہوا کپڑا اگلے سال بھی نہیں ملے گا۔حالانکہ وہ چیز اچھی بھی ہوتی ہے اور لوگوں میں مقبول بھی ہوتی ہے۔لیکن فیشن بدلنے کا شوق ہوتا ہے اس لئے اگلے سال کپڑے کا کوئی نیا ڈیزائن بازار میں آجائے گا اور پہلا ڈیزائن غائب ہو جائے گا۔بلکہ بعض دفعہ ایک عام استعمال میں آنے والی چیز بھی ایسی غائب ہو جاتی ہے کہ اسے تلاش کرنا نج مشکل ہوتا ہے۔مثلاً ہمارے ملک کے تجربہ نے یہ بتایا ہے کہ نمبر 26 کی ململ کی پگڑی اچھی ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی نمبر 26 کی ململ کی پگڑی ہی پہنا کرتے تھے اور میں بھی نمبر 26 کی ململ کی پگڑی ہی پہنتا ہوں۔لیکن اب یہ ململ بازار سے غائب ہوگئی ہے اور اس کا حاصل کرنا مشکل ہو گیا ہے۔اب کوئی واقف کار ملتا ہے تو اُسے کہا جاتا ہے کہ کہیں سے نمبر 26 کی ململ لا دو۔کیونکہ اسی ململ کی پگڑی باندھنے کی عادت پڑی ہوئی ہے۔دوسری ململ موٹی ہو جاتی ہے اور اس کی پگڑی ہاتھ میں نہیں آتی اور یا پھر پتلی ہو جاتی ہے۔لیکن ابھی ایک کی نسل بھی نہیں گزری کہ یہ عمل بازار میں نہیں ملتی۔بچپن میں جو لٹھا آپ لوگ پہنا کرتے تھے وہ آج جی نہیں ملتا۔جس لٹھے کے کپڑے تم اب پہنتے ہو وہ تمہارے بڑھاپے کے وقت نہیں ہو گا۔لیکن جہاں تھوڑے تھوڑے عرصہ کے بعد فیشن بدل جاتا ہے وہاں تمہارا پرانا طریق نہیں بدلتا۔وہی زربفت آج پائی جاتی ہے جو سینکڑوں سال پہلے لوگ پہنا کرتے تھے۔وہی مخمل اور دمشقی آج کی پائی جاتی ہے جو آج سے ہزاروں سال پہلے مستعمل تھی۔کیونکہ پرانا طریق یہ تھا کہ اگر کوئی اچھی چیز ہو تو اُسے لئے چلو۔مثلاً کنگھیوں کو ہی لے لو۔کتنی معمولی چیز ہے۔کنگھیاں ہزاروں سال کی چ چلی ہوئی ہیں۔جو کنگھیاں آج بنائی جاتی ہیں وہی کنگھیاں ہمارے باپ دادا بنایا کرتے تھے۔وہی کنگھیاں دسویں صدی میں بنائی جاتی تھیں۔وہی کنگھیاں نویں صدی میں بنائی جاتی تھیں۔