خطبات محمود (جلد 33) — Page 308
1952 308 خطبات محمود وہی کنگھیاں آٹھویں اور ساتویں صدی میں بنائی جاتی تھیں۔وہی کنگھیاں چھٹی اور پانچویں صدی میں بنائی جاتی تھیں۔وہی کنگھیاں تیسری اور دوسری صدیوں میں بنائی جاتی تھیں۔لیکن یورپ کی کنگھیوں کو لو وہ روز بدلتی ہیں۔کبھی لمبائی کم ہو جاتی ہے۔کبھی رنگ بدل جاتا ہے۔کبھی چوڑائی بدل جاتی ہے۔کبھی دھات بدل جاتی ہے۔کسی وقت لکڑی کی کنگھیاں بنائی جاتی ہیں۔کسی وقت لوہے کی کنگھیاں بنائی جاتی ہیں اور کبھی پلاسٹک کی کنگھیاں بنائی جاتی ہیں۔کبھی دندانوں میں فرق پڑ جاتا ہے۔غرض تمہاری کنگھیاں ہزاروں سال سے نہیں بدلیں۔لیکن یورپ کی کنگھیاں جو آج سے چند سال قبل تھیں اب نہیں ملتیں۔ملتان میں مٹی کے برتن بنتے ہیں۔آج جی سے ہزاروں سال قبل جس رنگ ، ٹھپے اور نقش کے برتن بنتے تھے اُسی رنگ اور ٹھپے اور نقش کے کی برتن آج بھی بنتے ہیں۔پرانے شہر کھودے جا رہے ہیں ان سے اسی ٹھپے ، رنگ اور نقش کے برتن مل رہے ہیں جو آج کل بنائے جاتے ہیں۔لیکن انگریزی پیالی جو آج سے دس سال قبل بازار میں ملتی تھی آج نہیں ملے گی۔کارخانے وہی ہوتے ہیں لیکن نئے ڈیزائن آجاتے ہیں اور پرانے ڈیزائن ختم ہو جاتے ہیں۔غرض دلوں سے نکلی ہوئی اور خدا تعالیٰ کے منبع سے آئی ہوئی چیز جو ہوتی ہے وہ پائیدار ہوتی ہے اور پرانے لوگ چاہتے تھے کہ ان کی بنائی ہوئی چیزیں بھی خدا تعالیٰ کی بنائی ہوئی چیزوں کی طرح پائیدار ہوں جس طرح ایک مذہب کا پیر و اس بات پر فخر کرتا تھا کہ میرا مذہب ہزاروں سال سے ہے اس میں کوئی تغیر نہیں ہوا۔اسی طرح ایک مٹی کے برتن بنانے والا اس بات پر فخر کرتا تھا کہ سالہا سال سے وہ اسی قسم ، اسی رنگ اور اسی ٹھپے کے برتن بنارہے ہیں لیکن آجکل تو مذہب اور دین بھی بدل رہے ہیں اور نئی نئی باتیں مذاہب میں داخل کی جا رہی ہیں۔غرض دنیا میں اب نئی سے نئی چیزیں آرہی ہیں۔نہ پرانے کپڑے ملتے ہیں، نہ پرانے برتن ملتے ہیں ، نہ پرانی قسم کا فرنیچر ملتا ہے۔اور بظاہر کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ وہ کیوں بدل گئیں۔کرسی کو لے لو۔آج سے چند سال پہلے اس کی جو شکل تھی وہ آج نہیں۔اس کی لکڑی کی موٹائی پہلے کی نسبت کم ہوگئی ہے۔تو کیوں اس کی شکل بدل دی گئی ہے؟ اس میں کیا فائدہ نظر آیا ہے؟ ایک دکاندار کہے گا کہ اس کا فائدہ تو کچھ نہیں فیشن بدل گیا ہے۔فیشن کیوں بدلا ؟ اس کی وہ کوئی وجہ بیان نہیں کر سکے گا۔