خطبات محمود (جلد 33) — Page 306
1952 306 خطبات محمود ہوتا ہے۔پھر ان کا اثر کانوں اور آنکھوں پر ہوگا۔قرآنی علم کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ چھی باہر سے اندر آنے والا علم نہیں بلکہ وہ اُن علوم میں سے ہے جو اندر سے باہر کی طرف آتے ہیں۔پہلے وہ دلوں پر نازل ہوتے ہیں، اس کے بعد وہ افکار اور کانوں اور آنکھوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ان کا چشمہ غیب سے پھوٹتا ہے اور وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجے جاتے ہیں۔پہلے وہ دل کی صفائی کرتے ہیں۔پھر دماغ کی صفائی کرتے ہیں۔اس کے بعد وہ کانوں اور آنکھوں کی صفائی کج کرتے ہیں۔پس دنیا میں اصلاحات اور تغیرات کے دو ہی طریق ہیں۔اندرونی اور بیرونی اندرونی تغیرات وہ ہوتے ہیں جو پہلے دل پر اثر انداز ہوں اور پھر باہر کی طرف آئیں۔اور بیرونی تغیرات وہ ہوتے ہیں جو پہلے کانوں اور آنکھوں پر اثر انداز ہوں پھر اندر کی طرف جائیں۔اور روحانی طریق وہی ہوتا ہے جو خدا تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر جو کلام نازل ہوا وہ پہلے دل پر نازل ہوا۔پھر وہ دماغ کی طرف آیا اور دماغ کے بعد وہ کانوں اور آنکھوں کی طرف آیا۔پس اعلیٰ طریق یہی ہے کہ تغیر اندر سے باہر کی طرف آئے۔کیونکہ یہی طریق خدا تعالیٰ نے اختیار کیا ہے۔ہماری جماعت کو بھی جبکہ وہ اصلاحات کے ایک عام دور میں سے گزر رہی ہے اپنے اندر اس قسم کا تغیر پیدا کرنا چاہیے۔دنیا میں شاید کبھی اتنی اصلاحی تحریکیں جاری نہیں ہوئیں جتنی اس زمانہ میں جاری ہوئی ہیں۔اس زمانہ میں متعدد تحریکیں مختلف ناموں پر جاری ہوئی ہیں۔کوئی کی بولشو ازم کے نام پر ہے۔کوئی سوشلزم کے نام پر ہے۔کوئی ناسزم کے نام پر ہے۔کوئی کی ڈیموکرٹیک انسٹی ٹیوشن کے نام پر ہے۔کوئی جمہوریت کے نام پر ہے۔کوئی استقلال کے نام پر کی ہے اور کوئی حریت کے نام پر ہے۔غرض اس زمانہ میں اتنی سیاسی ، تمدنی اور مذہبی تحریکیں جاری ہی ہیں کہ اس سے قبل شاید بلکہ یقینا دنیا میں اتنی تحریکیں جاری نہیں ہوئیں۔پرانے زمانہ کا معیار یہ تھا کہ ایک ایک چیز لو، اُسے پر کھتے جاؤ اور اُس کی درستی کرتے جاؤ۔یہاں تک کہ وہ تکمیل تک پہنچ جائے۔اسی لئے آج سے ہزار سال قبل جو کپڑے ہمارے آباء واجداد تھ پہنتے تھے وہ آج بھی دیکھنے میں آتے ہیں۔پرانے زمانہ میں وہی چیزیں چلتی تھیں جن میں آہستہ آہستہ ارتقاء ہوتا جاتا تھا۔چند قسم کے کپڑے تھے جو پرانے زمانہ میں معروف تھے اور وہ آج تک