خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 19

1952 19 خطبات محمود صورت میں بھی ناجائز نہیں خواہ ننانوے فیصدی سے زیادہ اکثریت دوسری طرف ہو۔یہ ہمارا نی مسلک ہے جو ہمیشہ سے چلا آتا ہے۔اسی سلسلہ میں میں نے اپنی تقریر میں یہ بھی بیان کیا تھا کہ احمدیت صداقت اور سچائی پھیلانے آئی ہے اور چونکہ احمدیت سچائی اور صداقت پھیلانے آئی ہے اس لئے ایک وقت آنے والا ہے کہ ننانوے فیصدی لوگ اس میں داخل ہو جائیں گے اور اُس وقت باقی لوگ یہ خیال کریں گے کہ شاید اب احمدی ان کے خلاف فتویٰ دیں گے لیکن میں نے بتایا تھا کہ ہمارا یہ عقیدہ نہیں کہ اکثریت کے خلاف اقلیت اپنی رائے ظاہر نہیں کر سکتی۔بلکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اختلاف رائے جرم نہیں۔ہاں فتنہ و فساد اور شرارت کرنا جرم ہے اور دیانت کا تقاضا ہوتا ہے کہ ایسے لوگوں کو پکڑا ج جائے۔میں نے اپنی تقریر میں کہا تھا کہ جب اللہ تعالیٰ ہمیں اکثریت دے گا تو ہم ایسا نہیں کریں کی گے کہ جو لوگ اختلاف رائے رکھیں انہیں پکڑ لیں۔بلکہ جب خدا تعالیٰ ہمیں اکثریت عطا کرے جی گا تو ہم باقی لوگوں سے کہیں گے کہ جو باتیں تم نے پہلے کہی ہیں ہم وہ بھی معاف کرتے ہیں اور آئندہ بھی تم اپنا اختلاف ہم سے ظاہر کر سکتے ہو۔یہ مضمون تھا جو میں نے اُس دن بیان کیا تھا۔اب کسی جماعت کا خصوصاً جب وہ صداقت پیش کرے یہ عقیدہ رکھنا کہ ایک دن وہ دنیا بھر میں پھیل جائے گی اور اکثریت اُس میں داخل ہو جائے گی کوئی جرم نہیں۔کبھی تم نے کوئی ایسی صداقت بھی دیکھی ہے یاد نیا میں کوئی ایسی سچائی بھی آئی ہے جس نے یہ اعلان کیا ہو کہ وہ گھٹے گی بڑھے گی نہیں ؟ کیا حضرت موسیٰ علیہ السلام یہ نہیں کہا کرتے تھے کہ وہ بڑھیں گے گھٹیں گے نہیں ؟ اور جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کہا کرتے تھے کہ وہ بڑھیں گے گھٹیں گے نہیں تو کیا وہ کی اُس وقت فساد کرتے تھے اور سرزنش کے قابل تھے؟ کیا حضرت عیسی علیہ السلام یہ نہیں کہا کرتے تھے کہ وہ بڑھیں گے گھٹیں گے نہیں ؟ اور جب وہ کہا کرتے تھے ہم بڑھیں گے گھٹیں گے نہیں تو کیا وہ فساد کرتے تھے یا شرارت کرتے تھے ؟ اور کیا وہ قابل مواخذہ تھے ؟ پھر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی یہی بات کہی کہ ہم بڑھیں گے گھٹیں گے نہیں۔اور جب آپ نے یہ بات کہی کہ ہم بڑھیں گے گھٹیں گے نہیں تو کیا آپ فتنہ پھیلا رہے تھے؟ یہ بات تو عقل کے ہی خلاف ہے۔جو صداقت بھی دنیا میں آئے گی وہ یہی کہے گی کہ ہم نے بڑھنا ہے۔سچائی کی علامت ہی یہی ہوتی ہے