خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 18 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 18

1952 18 خطبات محمود اکثر غلطی کر جاتے ہیں۔مگر خلاصہ بہر حال اصل مضمون کا قائمقام نہیں ہوا کرتا۔میرا وہ حصہ تقریر اس بارہ میں تھا کہ ایک اخبار نے لکھا تھا کہ گورنمنٹ پاکستان ایک قانون کی ننانوے فیصدی آبادی کے فائدہ کے لئے جاری کرنا چاہتی ہے۔لیکن امام جماعت احمدیہ نے ایک کتاب لکھی ہے اور اس کے خلاف رائے دی ہے۔اس لئے حکومت کو چاہیے کہ وہ مرزا صاحب کے خلاف کا رروائی کرے اور انہیں سزا دے۔قطع نظر اس کے کہ اخبار نویس نے واقعات کو بگاڑ کر پیش کیا تھا وہ قانون اب پیش ہو رہا ہے اور کتاب جس کی طرف اخبار نے اشارہ کیا تھا آج سے کی دو سال قبل چھپ چکی ہے۔پس یہ ایک صحافتی بددیانتی ہے کہ بعد میں آنے والے قانون کے خلاف اُس کتاب کو قرار دیا جائے جو قریباً دو سال پہلے لکھی گئی تھی۔اور اس قسم کی بددیانتی کی پہلے بھی اس اخبار میں بعض مثالیں پائی جاتی ہیں۔چنانچہ آفاق میں اسی مسئلہ کے متعلق متعدد جھوٹے اور جعلی مضامین شائع ہوئے ہیں جو ایک ہی آدمی نے مختلف ناموں سے شائع کرائے اور ظاہر یہ کیا گیا کہ وہ مختلف لوگوں کے ہیں۔گویا کہ بہت سے لوگوں میں جوش پیدا ہو گیا ہے۔حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ وہ ایک ہی آدمی تھا جس نے وہ سارے مضامین لکھے۔جب ایک احمدی نے اس بارہ میں’ آفاق کو چیلنج بھجوایا تو نہ اُس کا مضمون چھاپا گیا نہ اس امر کی تردید کی گئی جس سے اس روایت کی تصدیق ہو جاتی ہے۔اس بات کو نظر انداز کرتے ہوئے اصل سوال جو اس اخبار نے لیا تھا اس سے جو مفہوم نکلتا تھا وہ یہ تھا کہ چونکہ امام جماعت احمدیہ نے اکثریت کی کے خلاف رائے ظاہر کی ہے اس لئے وہ سرزنش کے قابل ہے۔گورنمنٹ کو چاہیے کہ وہ اس کے خلاف کارروائی کرے۔میں نے اس اخبار کو یہ جواب دیا تھا کہ خیالات کا ظاہر کرنا جرم نہیں۔یہ تو جمہوریت کے اصول کے مطابق ہے۔100 میں سے 10 تو الگ رہے اگر نو کروڑ ننانوے لاکھ نا نوے ہزار نو سو ننانوے کی ایک رائے ہو اور ایک آدمی کی ایک رائے ہو تو ایک آدمی جمہوریت کے مطابق نو کروڑ ننا نوے لاکھ نا نوے ہزار نو سوننانوے سے اختلاف رکھ سکتا ہے اور اسے حق پہنچتا ہے کہ وہ نو کروڑ ننانوے لاکھ ننانوے ہزار نو سو ننانوے کے خلاف رائے دے۔مُجرم یہ ہوتا ہے کہ خلاف قانون عمل کیا جائے۔اور خلاف قانون عمل خواہ نانوے فیصدی آبادی بھی کرے یا پچاس فیصدی کرے یا چالیس فیصدی کرے وہ ناجائز ہوگا۔لیکن اپنی رائے کو ظاہر کرنا کسی