خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 20 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 20

1952 20 خطبات محمود کہ وہ بڑھے۔کیا کسی کا کسی عقیدہ کو صحیح سمجھ کر مان لینا فتنہ ہوتا ہے؟ ہرگز نہیں۔اگر ہم انگلینڈ میں جا کر کہیں کہ ہم یہاں اتنی تبلیغ کریں گے کہ بادشاہ بھی احمدی ہو جائے گا تو یہ فتنہ نہیں ہوگا ، یہ فساد نہیں ہوگا۔وہ اتنا ہی کر سکتا ہے کہ کہہ دے کہ میں احمدی نہیں ہوتا۔ہم کہیں گے اچھا تم احمدی نہ ہوئے تو تمہاری اولا د احمدی ہو جائے گی۔یہ صداقت ہے جس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔گجا یہ کہ اسے فتنہ کہا جائے۔جب ہم سمجھتے ہیں کہ احمدیت کچی ہے تو ہم یہ یقین بھی رکھتے ہیں کہ نوے فیصدی تو کیا اس سے بھی زیادہ لوگ اس میں داخل ہوں گے۔پھر دوسری بات بھی کہ جب ہم زیادہ ہو جائیں گے سختی نہیں کریں گے کسی فتنہ کا موجب نہیں۔آخر یہ کون سی جرم والی بات ہے کہ ہم کہیں ہم جب دنیا میں پھیل جائیں گے یا یہ کہ جب ہم زیادہ ہو جائیں گے تو تھوڑوں پر سختی نہیں کریں گے۔اس میں کون سی ہتک والی بات ہے۔یہ خلاصہ ہے میری تقریر کا۔اب جو شخص اس پر خفگی کا اظہار کرتا ہے اُس کا یہ فعل جائز نہیں۔افسر کے تو معنی ہی یہ ہوتے ہیں کہ وہ کسی بات پر ٹھنڈے دل سے غور کرے اور دوسروں کو ٹھنڈے دل سے غور کرنے کی عادت ڈالے۔اس افسر کا یہ کام تھا کہ وہ دوسروں سے پوچھتا کہ آخر وہ کون سی کی بات ہے جس پر تمہیں جوش آ رہا ہے۔کیا یہ بات مُجرم ہے کہ کوئی کہے ہم ایک دن زیادہ ہو جائیں گے ، ہماری اکثریت ہو جائے گی اور ہم دنیا میں پھیل جائیں گے؟ احمدی کیا دنیا کا ہر فرقہ یہی کہتا ؟ ہے۔کون نہیں کہتا کہ ہم زیادہ ہو جائیں گے اور ایک دن ایسا آئے گا کہ اکثریت ہماری ہوگی۔یا پھر کیا یہ جرم والی بات ہے کہ کوئی کہے کہ جب ہم زیادہ ہو جائیں گے تو تھوڑوں پر سختی نہیں کریں گے؟ اگر خلاصہ اس رنگ میں بیان کیا جائے تو میں حیران ہوں کہ دوسرے لوگ کس طرح ناراض ہو سکتے ہیں۔ہر جماعت اور ہر فرقہ کا یہ حق ہے بلکہ یہ خوبی ہے کہ وہ کہے ہم جب زیادہ ہو جائیں گے تو تھوڑوں پر سختی نہیں کریں گے۔یہ تو قابلِ تعریف بات ہے اس میں گھبراہٹ والی کون سی بات ہے۔دوسری بات اُس افسر نے یہ کہی اور میں سمجھتا ہوں کہ یہ بات نہایت نا پسندیدہ تھی اُسے ایسا کہنے کا حق نہیں تھا۔اُس نے کہا کہ مرزا صاحب نے انگریزوں کو ایک خط لکھا تھا جس میں یہ تحریر کیا تھا کہ میں نے آپ کی بہت سی خدمات کی ہیں لیکن مجھے ان خدمات کا کوئی اجر نہیں ملا۔۔