خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 288 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 288

1952ء 288 خطبات محمود نہیں دیتا جب تک کہ تعلق باللہ پیدا نہ ہو ۔ مذہب خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنے کا نام ہے ۔ آپ لوگ نمازیں پڑھیں ، ذکر الٰہی کی عادت ڈالیں ، غور وفکر کی عادت پیدا کریں ، ہر ایک بات کو سوچیں اور اس سے نتیجہ نکالیں ۔ آج کل لاکھوں میں کوئی ایک ہوگا جسے سوچنے کی عادت ہو ۔ سب لوگ نقل کے عادی ہوتے ہیں ۔ بات سن لی اور نقل کر دی ۔ یہ نہیں کہ خود سوچ بچار چ بچار کر کے کوئی نتیجہ اخذ کیا جائے ۔ وہ خود اس بات پر غور نہیں کرتے کہ سچ کی کیا تعریف ہے ، تو میں کیسے بنتی ہیں ، کن ذرائع سے بھلائیاں بُرائیاں نظر آتی ہیں اور بُرائیاں بھلائیاں نظر آتی ہیں ۔ جب انسان بجائے غور و فکر کے محض جذبات سے کام لیتا ہے تو وہ ٹھوکر کھاتا ہے۔ تم اگر کامیاب ہونا چاہتے ہو، تم اگر با مراد ہونا چاہتے ہو، تم اگر خوشی کی موت مرنا چاہتے ہو تو تم اپنی زندگی کو مفید بناؤ ۔ جیسا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بہتر عبادت یہی ہے کہ تم یہ محسوس کرو کہ وسلم تم خدا تعالیٰ کو دیکھ رہے ہو۔ اور اگر تم خدا تعالیٰ کو نہیں دیکھ رہے تو تمہیں یہ یقین ہو کہ خدا تعالیٰ تمہیں دیکھتا ہے 3 تم بھی اپنے اندر یہی رنگ پیدا کرو تا جب موت آئے تو اگر تم خدا تعالیٰ کو نہیں دیکھتے تو تمہیں یقین ہو کہ خدا تعالیٰ تمہیں دیکھ رہا ہے ۔ اس کے بغیر حقیقی راحت حاصل نہیں ہوسکتی ۔ باقی چیز میں سب ڈھکو سلے ہیں ان میں کوئی حقیقت نہیں ۔ اگر کسی مذہب پر عمل کرنے کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ نہیں ملتا تو وہ مذہب محض نام کا مذہب ہے اُس کے اندر کوئی حقیقت نہیں ۔“ کا الفضل 14 اکتوبر 1952ء ) 1 : متی باب 7 آیت 3 2 : کاسنی : سلاد کے پتوں سے مشابہ ایک بوٹی جو اندرونی ورم میں فائدہ دیتی ہے۔ اس کے بیج اور عرق بھی دوا کے طور پر استعمال ہوتے ہیں ۔ ( اردو لغت تاریخی اصول پر۔ جلد 14 صفحہ 481 کراچی 1992 ء ) 3 : بخاری کتاب الايمان - باب سُؤَالِ جِبْرِيلَ النَّبِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْإِيْمَانِ ۔ (الخ)