خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 287

1952 287 خطبات محمود نام رکھ لو جب تک وہ فی الواقع آب زمزم نہیں بن جاتا۔اسی طرح احمدیت اور اسلام تمہیں اُس کی وقت تک کوئی فائدہ نہیں دے سکتے جب تک تمہیں خدا تعالیٰ نہیں مل جاتا۔تم اگر عرق گاؤ زبان کی بوتل پر روح کیوڑہ لکھ دو تو کیا وہ روح کیوڑہ بن جائے گا؟ پانی پر اگر روح گلاب لکھ لیا جائے تو ی اس سے کیا بنتا ہے۔جب اندر روح گلاب نہ ہو۔یہ تو دھوکا ہو گا۔دھوکا باز عطار اسی طرح کرتے ہیں۔علاقہ میں و با شروع ہوتی ہے مثلاً ملیر یا شروع ہوتا ہے اور حکیم لکھنا شروع کر دیتے ہیں کہ مریض کو عرق مکو اور عرق گاؤ زبان پلاؤ۔تو ایک دیانتدار عطار بعض دفعہ کہہ دے گا کہ کی میرے پاس عرق مکو اور عرق گاؤ زبان تیار نہیں لیکن بددیانت عطار کہے گا میرے پاس دونوں کی چیزیں موجود ہیں۔وہ پانی لے گا، بوتل میں بھرے گا اور کہے گا یہ عرق مکو ہے، یہ عرق کاسنی 2 ج ہے، یہ عرق گلاب ہے، تم جو عرق بھی مانگو گے وہ اس کے پاس موجود ہوگا۔ہماری تاریخ طب کی کتابوں میں ایک تاریخی واقعہ لکھا ہے کہ ایک دفعہ ایک عباسی بادشاہ نے کہا اب طب ترقی کر رہی ہے۔تو کسی نے کہا طب ترقی کیسے کر سکتی ہے۔جب تک دوائیں بیچنے والوں میں دیانت پیدا نہ ہو تم چاہے کوئی نسخہ لکھو اُس سے کیا فائدہ ہوگا۔بادشاہ نے کہا بغداد میں دوا فروشوں کی پانچ چھ سود کا نہیں ہیں تم تجربہ کر لو۔اس پر انہوں نے کسی دوائی کا مصنوعی نام رکھ لیا اور کہا یہ دوا منگوا دو۔وہ دوا آنی شروع ہوئی کسی دوا فروش نے ملٹھی بھیج دی اور کہہ دیا یہی وہ دوا ہے، کسی نے عناب بھیج دیئے اور کہہ دیا یہی وہ دوا ہے۔غرض سب دکانداروں نے یہی طریق اختیار کیا۔صرف ایک دکاندار ایسا نکلا جس نے کہا کہ میرے پاس یہ دوا نہیں میں نے ج یہ نام نہیں سنا۔بادشاہ نے دریافت کیا کہ کس دکاندار نے سچ بولا ہے؟ تو طبیبوں نے کہا سب جھوٹ بولتے ہیں سچا وہی ہے جو کہتا ہے کہ میں نے یہ نام پہلے نہیں سنا کیونکہ ہم نے مصنوعی نام رکھ کر یہ تجربہ کیا تھا۔اسی تجربہ کی وجہ سے مسلمان بادشاہوں نے دوا سازی کا بھی امتحان رکھا تھا۔( پاکستان میں بھی اب یہ کوشش ہو رہی ہے ) دوائیوں کی پہچان کے لئے سکول بنائے گئے تھے اور جو شخص وہ مخصوص امتحان پاس کر لیتا تھا اُسی کو دوائی بیچنے کی اجازت دی جاتی تھی۔اسی طرح تم کوئی نام رکھ لو۔تم مٹی کا نام سونا رکھ لو تو مٹی سونا نہیں بنے گی۔تم دنیا داری کا نام مذہب رکھ لیتے ہو تو تمہیں مذہب کوئی فائدہ نہیں دے گا۔مذہب اُس وقت تک کوئی فائدہ