خطبات محمود (جلد 33) — Page 201
1952 201 خطبات محمود ہوتے ہیں جن کا نماز پڑھنے کو دل تو چاہتا ہے لیکن نیند کے غلبہ کی وجہ سے بیدار نہیں ہوتے وہ بھی کچ تہجد کے لئے اُٹھ بیٹھیں گے۔رمضان میں لوگ اٹھ بیٹھتے ہیں اس لئے کہ ارد گر د شور ہوتا ہے۔اکیلے آدمی کو اٹھا ئیں تو وہ سو جاتا ہے۔لیکن رمضان میں وہ نہیں سوتا اس لئے کہ ارد گرد آواز میں کی آتی ہیں۔کوئی قرآن کریم پڑھتا ہے ، کوئی دوسرے کو جگاتا ہے، کوئی دوسرے آدمی سے یہ کہتا تج ہے کہ ہمارے ہاں ماچس نہیں ذرا ماچس دے دو، ہمارے ہاں مٹی کا تیل نہیں تھوڑا سا مٹی کا تیل کی دو، کوئی کہتا ہے کہ ہمارے ہاں آگ نہیں آگ دو، کوئی کہتا ہے میں سحری کھانے کے لئے کی تیار ہوں روٹی تیار ہے؟ یہ آوازیں اُس کا سونا دو بھر کر دیتی ہیں۔وہ کہتا ہے نیند تو آتی نہیں لیٹنا کی کیا ہے چلو چند نفل ہی پڑھ لو۔رمضان بے شک برکت ہے لیکن رمضان میں جاگنے کا بڑا ذریعہ یہی ہوتا ہے کہ ارد گرد سے آواز میں آتی ہیں اور وہ انسان کو جگا دیتی ہیں۔ایک آدمی آٹھ بجے سوتا ہے اور اسے دو بجے بھی جاگ نہیں آتی۔لیکن ایک آدمی بارہ بجے سوتا ہے لیکن تین بجے اٹھ بیٹھتا ہے اس لئے کہ ارد گرد سے آوازیں آتی ہیں ، ذکر الہی کرنے کی آواز میں آتی ہیں، قرآن کریم پڑھنے کی آوازیں آتی ہیں ، کوئی کسی کو جگا رہا ہوتا ہے اور کوئی کھانا پکا رہا ہوتا ہے اور اس کی آواز اسے آتی ہے۔اس لئے صرف تین گھنٹے سونے والا بھی اٹھ بیٹھتا ہے۔یہ ایک تدبیر ہے جس سے جاگنے کی عادت ہو جاتی ہے۔پس مقامی عہدیداروں کو چاہیے کہ وہ اس کا محلوں میں انتظام کریں اور پھر اسے باہر بھی پھیلایا جائے تا آہستہ آہستہ لوگ تہجد کی نماز کے عادی ہو جائیں۔پھر اگر کوئی تہجد کا مسئلہ پوچھے تو اُسے کہو کہ اگر تہجد رہ جائے تو اشراق کی نماز پڑھو جو دو رکعت ہوتی ہے۔وہ بھی رہ جائے تو ضحی پڑھو جو تہجد کی طرح دو سے آٹھ رکعت تک ہوتی ہے۔اس طرح تہجد اور نوافل کی عادت پڑ جائے گی۔صلوۃ کے دو معنی ہیں نماز اور دعا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَاسْتَعِينُوا بِالقَبُرِ وَالصَّلوة - تم مدد مانگو، صبر، نماز اور دعا سے۔اور جو شخص خدا تعالیٰ سے مدد طلب کرتا ہے اس میں شبہ ہی کیا ہے کہ کوئی شخص اُس پر غالب نہیں آ سکتا۔اگر خدا تعالیٰ ہے تو سیدھی بات ہے کہ اس سے زیادہ طاقتور اور کوئی نہیں۔اگر خدا تعالیٰ سے زیادہ طاقتور اور کوئی نہیں تو یقیناً وہی شخص جیتے گا جس کے ساتھ خدا تعالیٰ ہے۔بے شک کسی کے ساتھ دنیا کی سب طاقتیں ہوں، جلسے ہوں، جلوس ہوں،۔