خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 200 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 200

1952 200 خطبات محمود کر دے جولوگوں کے صداقت قبول کرنے میں روک ہیں اور ان کی توجہ اس طرف پھیر رہی ہیں۔ابتلاء مانگنا منع ہے لیکن اس کے دور ہونے کے لئے دعا مانگنا سنت ہے۔اس لئے یہ دعائی کریں کہ خدا تعالیٰ وہ روکیں دور کر دے جولوگوں کو صداقت قبول کرنے سے ہٹا رہی ہیں اور ہماری فکر مندیوں کو دور کر دے۔ہاں وہ ہمیں ایسا بے فکر اور بے ایمان نہ بنائے کہ جس کی وجہ سے ہمارے ایمان میں خلل واقع ہو۔در حقیقت ایمان کا کمال یہ ہے کہ انسان خوف اور امن دونوں حالتوں میں خدا تعالیٰ کے سامنے جھکے۔اگر کوئی شخص خوف اور امن دونوں حالتوں میں خدا تعالیٰ کے سامنے جھکتا ہے تو خدا تعالیٰ بھی اسے امن دیتا ہے۔لیکن جو مومن خوف کی حالت میں خدا تعالیٰ کے سامنے جھکتا ہے امن کی جی حالت میں نہیں خدا تعالیٰ اس کے لئے ٹھوکریں پیدا کرتا ہے۔اگر خدا تعالیٰ اسے مرتد کرنا چاہتا ؟ ہے تو وہ اس کے لئے امن کی حالت پیدا کر دیتا ہے اور وہ آہستہ آہستہ خدا تعالیٰ سے دور ہو جاتا ہے ہے۔پس جو لوگ نماز کے پابند ہیں وہ نما ز سنوار کر پڑھیں اور جو نما ز سنوار کر پڑھنے کے عادی ہیں وہ تہجد کی عادت ڈالیں۔پھر نوافل پڑھنے کی عادت ڈالیں۔پھر نہ صرف نوافل پڑھیں بلکہ دوسروں کو بھی نوافل پڑھنے کی عادت ڈالیں۔خدا تعالیٰ نے لوگوں کو روزہ کی عادت ڈالنے کے لئے ایک ماہ کے روزے فرض کئے ہیں۔روزے فرض ہونے کی وجہ سے ایک مسلمان ایک ماہ جاگتا ہے اور پھر اپنے ساتھیوں کو بھی جگاتا ہے۔ڈھول پیٹتے ہیں اور اس طرح تمام لوگ اس کی مہینہ میں تہجد کی نماز پڑھ لیتے ہیں۔اگر ایک ہمسایہ روزہ کے لئے نہ اٹھتا تو دوسرا بھی نہ اٹھتا۔لیکن چونکہ ایک آدمی روزہ کے لئے اٹھتا ہے تو اس کی وجہ سے دوسرا بھی بیدار ہو جاتا ہے۔خدا تعالیٰ کے اس طرح روزے فرض کرنے میں ایک حکمت یہ بھی تھی کہ سب لوگوں کو اس عبادت کی عادت پڑ جائے۔پس اس قسم کی تدبیریں اور کوششیں جاری رکھنا بھی ضروری ہے۔ربوہ کی جماعت کے افسران اور عہدیداران محلوں میں تہجد کی تحریک کریں۔اور جو لوگ تہجد پڑھنے کے لئے تیار ہوں اور یہ عہد کریں کہ وہ تہجد پڑھنے کے لئے تیار ہیں اُن کے نام لکھ لیں۔اور جب وہ چند دنوں کے بعد اپنے نفوس پر قابو پالیں تو انہیں تحریک کی جائے کہ وہ باقیوں کو بھی جگائیں۔جب سارے لوگ اٹھنا شروع ہو جائیں، پیسے بجنے لگ جائیں تو کئی لوگ ایسے بھی تھی