خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 202 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 202

1952 202 خطبات محمود نعرے ہوں قتل و غارت ہو، قید خانے ہوں، پھانسیاں ہوں ، لعنت و ملامت ہو لیکن جیتے گا وہی جس کے ساتھ خدا تعالیٰ ہے۔دلوں کی حالت کے متعلق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اَنَّ اللهَ يَحُولُ بَيْنَ الْمَرْءِ وَقَلْبِم - 3 اللہ تعالیٰ ہی دلوں کے بھید جانتا ہے۔وہی دلوں کو بدل سکتا ہے۔خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ انسان کے کیا خیالات ہیں اور ان کا رد عمل کیا ہے۔وہ دلوں کو جانتا ہے ، وہ اعمال کو جانتا ہے اور ان کے رد عمل کو جانتا ہے۔خدا تعالیٰ کہتا ہے کہ جو میری طرف آتا ہے اُسے دلوں کی کی طرف ایک سرنگ مل جاتی ہے۔آخر دلوں کو بدلنے کا کون سا ذریعہ ہے؟ سوائے اس کے کہ ہم خدا تعالیٰ سے دعا کریں۔خدا تعالیٰ نے اس کا ذریعہ صبر وصلوۃ مقرر کر دیا ہے۔صبر کے یہ معنی ہیں کہ انسان کو خدا تعالیٰ سے کامل محبت ہو۔وہ سمجھتا ہے کہ خدا تعالیٰ مقدم ہے اور باقی ہر چیز مؤخر ہے۔اس لئے وہ اس کے لئے ہر مشکل اور تکلیف کو برداشت کر لیتا ہے۔گویا صبر میں جبری طور پر خدا تعالیٰ کی محبت کا اظہار ہوتا ہے اور صلوٰۃ میں عشقیہ طور پر خدا تعالیٰ سے محبت کا اظہار ہوتا ہے۔صبر جبری محبت ہے اور نماز طوعی محبت۔ہم کچھ کام جبری طور پر کرتے ہیں اور کہتے ہیں ہم نے خدا تعالیٰ کو نہیں چھوڑ نا ، یہ چیز جبری ہے۔مشکلات اور مصائب تم خود پیدا نہیں کرتے۔دشمن مشکلات اور مصائب لاتا ہے اور تم انہیں برداشت کرتے ہو اور خدا تعالیٰ کو نہیں چھوڑتے۔لیکن نماز طوعی ہے۔نماز تمہیں کوئی اور نہیں پڑھا تا نماز تم خود پڑھتے ہو۔پس تم صبر میں جبری طور پر خدا تعالیٰ کی محبت کا ثبوت دیتے ہو اور نماز میں طوعی طور پر اس کا اظہار کرتے ہو۔اور جب یہ دونوں چیزیں مل جاتی ہیں تو محبت کامل ہو جاتی ہے اور خدا تعالیٰ کا فیضان جاری ہو جاتا ہے۔تم خدا تعالیٰ کے فیضان کو حاصل کرنے کی کوشش کرو اور اس سے صبر وصلوٰۃ کے ساتھ مدد مانگو۔خدا تعالیٰ کا دلوں پر قبضہ ہے وہ انہیں بدل دے گا۔میں جب تم سے کہتا تھا کہ جماعت پر مصائب اور ابتلاؤں کا زمانہ آنے والا ہے اس لئے تم بیدار ہو جاؤ اس وقت تم میری بات پر یقین نہیں کرتے تھے۔تم ہنسی اڑاتے تھے اور لکھتے تھے کہ آپ کہاں کی باتیں کرتے ہیں ہمیں تو یہ بات نظر نہیں آتی۔اور جب کہ فتنہ آ گیا ہے میں تمہیں دوسری خبر دیتا ہوں کہ جس طرح ایک بگولا آتا ہے اور چلا جاتا ہے یہ فتنہ مٹ جائے گا۔یہ سب کارروائیاں هَبَاءً منثورًا 4 ہو جائیں گی۔خدا تعالیٰ کے فرشتے آئیں گے اور وہ ان