خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 193

1952 193 خطبات محمود جسم مضبوط نہیں ہوتا۔اور یہ اسی صورت میں ہو سکتا ہے کہ ورزش کرنے والا اپنے جسم کو دیکھ رہا ہے ہو۔یہ نہایت کامیاب اصل ہے۔ہزاروں نے اس کا تجربہ کیا ہے اور اسے کامیاب پایا اور انہوں نے اپنے جسموں کو درست کیا۔تمہیں بھی اٹھتے بیٹھتے یہ خیال رکھنا چاہیے کہ تم ہمت محسوس کر رہے ہو اور تمہیں یہ سمجھ لینا چاہیے کہ تم تو ابھی جو ان بھی نہیں ہوئے۔تمہاری عمر ابھی 63 سال کی ہے۔اور اگر تمہاری کم سے کم عمر بھی قرار دے لی جائے تو تم نے 75 سال کے بعد جا کر جوان ہونا ہے۔اور پھر 150 ، 175 سال جوانی کے بھی گزرنے ہیں۔حضرت مسیح علیہ السلام کی قوم کی عمر کو لیا جائے تو اُس کی جوانی کی عمر 500 سال کی تھی۔270 سال گزر جانے کے بعد ان کی جوانی کا وقت شروع ہوا تھا۔ہم سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعو علیہ الصلوۃ والسلام سے جو وعدے کئے ہیں۔اُن کے مطابق ہماری جوانی پہلے شروع ہو گی۔بہر حال ہماری اُن سے حج کچھ مشابہت تو ہونی چاہیے۔ممکن ہے ہماری جوانی کا وقت 100 یا سوا سو سال سے شروع ہو۔اس صورت میں جوانی کا زمانہ پونے دوسو سے اڑھائی سوسال تک کا ہوگا۔یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ جن کی جوانی میں دیر لگتی ہے اُن کی عمریں بھی لمبی ہوتی ہیں اور جن کی عمر میں چھوٹی ہوتی ہیں اُن کی جوانی بھی جلدی آتی ہے۔جانوروں کو دیکھ لو۔جن جانوروں کی عمر چار پانچ سال کی ہوتی ہے۔اُن کی جوانی مہینوں میں ہوتی ہے اور جو جانور 27 ، 28 سال تک زندہ رہتے ہی ہیں۔اُن کی جوانی سالوں میں آتی ہے۔گھوڑے کو لے لو۔اس کی عمر میں پچیس سال کی ہوتی ہے ج اور اس کی جوانی کی عمر کہیں چار سال سے شروع ہوتی ہے۔لیکن بکری اور بلی چوتھے پانچویں ماہ جوان ہو جاتے ہیں۔گویا جتنی کسی کی عمر چھوٹی ہو گی اُسی نسبت سے اُس کی جوانی پہلے آئے گی اور جتنی کسی کی عمر لمبی ہو گی اُسی نسبت سے اُس کی جوانی بھی بعد میں آئے گی۔تمہاری زندگی کا لمبائی ہونا مقدر ہے اور یہ نیک فال ہے کہ ابھی تمہاری جوانی کا وقت نہیں آیا۔اگر تم 63 سال کی عمر میں بھی نیم جوانی کی حالت میں ہو تو معلوم ہوا کہ تمہاری عمر لمبی ہے۔عمر اور جوانی میں کچھ نسبت ہوتی ہے۔لمبی عمر ہو تو جوانی دیر سے آتی ہے اور اگر جوانی دیر سے آئے تو معلوم ہوا کہ عمر لمبی ہوگی۔بہر حال اس زمانہ تک جماعت احمدیہ کی ترقی نہ کرنا حیرت کا موجب نہیں۔63 سال جماعت پر گزر چکے ہیں۔اگر 63 سال میں جماعت غالب نہیں آئی تو یہ خوشی کی بات ہے۔عیسائیوں پر پونے تین سو سال میں جوانی آئی اور آج تک وہ پھیلتے چلے جارہے ہیں۔ایک لمبے