خطبات محمود (جلد 33) — Page 194
1952 194 خطبات محمود عرصہ تک انہیں مصائب جھیلنے پڑے، تکالیف برداشت کرنی پڑیں اور وہ غور و فکر کرتے رہے جس کی کی وجہ سے انہیں ہر کام کے متعلق غور کرنے اور فکر کرنے کی عادت پڑ گئی اور اس کے نتیجہ میں انہوں نے بعد میں شاندار ترقی حاصل کی۔پس ہماری جماعت پر جوانی کا وقت آنے میں جو دیرلگی ہے اس کی وجہ سے ہمیں گھبرانا نہیں چاہیے۔جوانی دیر سے آنے کے یہ معنی ہیں کہ جماعت کی عمر بھی لمبی ہوگی اور احمد بیت دیر تک قائم رہے گی۔یہ چیزیں تمہاری گھبراہٹ کا موجب نہیں ہونی چاہئیں بلکہ تمہیں خوش ہونا چاہیے کہ خدا تعالیٰ جماعت کو لمبی عمر دینا چاہتا ہے۔تم سوچنے اور فکر کرنے کی عادت ڈالو۔تمہاری طاقت ،تمہارا ایمان تمہاری قوت مقابلہ اور عقل سوچنے سے بڑھے گی۔قرآن کریم میں آتا ہے کہ بہت سے لوگ حقائق پر سے اس حالت میں گزر جاتے ہیں کہ وہ اُن پر غور نہیں کرتے۔پس تم ہر چیز پر غور کرو اور فکر کرو کیونکہ جو شخص بغیر فکر کی عادت پیدا کرنے کے مرتا ہے وہ جانور کی موت مرتا ہے۔وہ انسان کی موت نہیں مرتا۔بلکہ بلی ، گھوڑے اور گائے کی موت مرتا ہے۔انسان وہ ہے جو ہر بات پر غور کرتا ہے اور اس سے نتیجہ اخذ کرتا ہے اور پھر اس کے مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنے کی عادت ڈالتا ہے۔“ حضور نے فرمایا: میں نماز کے بعد بعض جنازے پڑھاؤں گا۔مہاشہ حمد عمر صاحب مبلغ کے لڑکے عزیز احمد جماعت ہشتم فوت ہو گئے ہیں۔مرحوم امتحان دے جار ہا تھا کہ گاڑی کی لپیٹ میں آ گیا اور فوت ہو گیا۔جنازہ میں بہت کم لوگ شریک ہوئے۔چودھری دین محمد صاحب مدار ضلع شیخو پورہ میں فوت ہو گئے ہیں۔مرحوم جمعدار فضل الدین صاحب اوورسیئر کے چچا تھے۔جنازہ میں بہت کم لوگ شریک ہوئے۔سردار حق نواز صاحب صحابی تھے۔سردار نذیرحسین صاحب کے ماموں تھے۔جنازہ میں بہت تھوڑے لوگ شریک ہوئے۔سراج الحق صاحب سب انسپکٹر پولیس۔حاجی نصیر الحق صاحب کے چھوٹے بھائی تھے۔جنازہ میں بہت کم لوگ شریک ہوئے۔جیواں بیگم صاحبہ کیپٹن شاہ نواز صاحب کی خالہ تھیں ، صحابہ تھیں، جنازہ میں بہت کم لوگ شریک ہوئے۔