خطبات محمود (جلد 33) — Page 192
1952 192 خطبات محمود اُس کی جوانی میں لگتا ہے۔یعنی 27 سال اس کی جوانی کے ہوتے ہیں گویا 45 سال کا انسان ہو تب اس میں کمزوری کے آثار پیدا ہونے چاہئیں۔بلکہ بڑھا پا تو اس سے بھی بعد میں آتا ہے۔لوگ کہتے ہیں سا ٹھا باٹھا۔گویا اگر قومی لحاظ سے 75 سال کے بعد تم جوان ہو تو 75+35=110 سال تمہاری جوانی کی عمر ہو گی۔گویا اگر ضعف کے آثار تم میں پیدا ہوں تب بھی 185 سال کے بعد پیدا ہونے چاہئیں اور یہ ایک صدی سے زیادہ بھر پور جوانی کا وقت ہو گا۔اور پھر نیم جوانی کا وقت 75 سال اور سمجھ لو۔گویا ڈیڑھ صدی یا پونے دوصدیوں کے بعد اضمحلال کا زمانہ شروع ہوگا۔پھر مرتے مرتے بھی تو میں وقت لیتی ہیں۔یہ نہیں ہوتا کہ انسان ساٹھ سال کا ہوتے ہی سوٹا پکڑ لے۔بلکہ وہ آہستہ آہستہ کمزوری کی طرف بڑھتا ہے اور دیکھتے دیکھتے بغیر کسی خیال کے اس کی حالت تبدیل ہوتی جاتی ہے۔یہی حال قوموں کا ہے۔ہماری جماعت کو یا د رکھنا چاہیے کہ وہ ابھی جو ان بھی نہیں ہوئی۔اس پر ابھی وہ زمانہ ہے کہ جب انسان کچھ بھی کھالے تو وہ اسے ہضم ہو جاتا ہے۔ہزاروں مخالفتیں ہوں ، مصائب ہوں، ابتلاء ہوں، یہ اس کی قوت کے بڑھانے کا موجب ہونے چاہئیں کمزوری کا موجب نہیں۔اگر تم اس چیز کو سمجھ لو تو یقینا تمہارے حالات اچھے ہو جائیں گے۔جو لوگ جسمانی بناوٹ کے ماہر ہیں ان کا خیال ہے کہ انسانی جسم اس یقین کے ساتھ بڑھتا ہے کہ اس کی طاقت بڑھ رہی ہے۔طاقت کا مشہور ماہر سینڈوح گزرا ہے۔اس نے طاقت کے کئی کرتب دکھائے ہیں اور کئی تج بادشاہوں کے پاس جا کر اس نے اپنی طاقت کے مظاہرے کئے ہیں۔اس نے ایک رسالہ لکھا ہے کہ مجھے ورزش کا کہاں سے خیال پیدا ہوا اور میرا جسم کیسے مضبوط ہوا۔وہ لکھتا ہے کہ مجھے ایسے رنگ میں کام کرنے کا موقع ملتا تھا کہ میرے بازو بنیان سے باہر رہتے تھے۔میں نے ایک دن اپنے باز و دیکھ کر خیال کیا کہ میرے بازو مضبوط ہو رہے ہیں۔اس خیال کے آنے کے بعد میں نے ورزش شروع کر دی اور آہستہ آہستہ میرا جسم مضبوط ہوتا گیا۔سینڈو کا یہ خیال تھا کہ ورزش لنگوٹا باندھ کر کرنی چاہیے تا ورزش کرنے والے کی نظر اُس کے جسم کے مختلف حصوں پر پڑتی رہے اور اسے یہ خیال رہے کہ اس کا جسم بڑھ رہا ہے۔وہ لکھتا ہے کہ میں نے لنگوٹا باندھ کر ورزش شروع کی۔میں ہمیشہ یہ خیال کرتا تھا کہ میرے جسم کا فلاں حصہ بڑھ رہا ہے اور مجھ پر یہ اثر ہوا کہ صحت کی درستی خیال کے ساتھ ساتھ چلتی ہے۔جب تک انسان کا خیال اس کی مدد نہیں کرتا اُس کا کی