خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 152 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 152

1952 152 خطبات محمود ایسی جماعت کے متعلق ہے جو ساری زمیندار جماعتوں میں سے سب سے زیادہ آسودہ ہے۔گوئی تعداد میں کم ہے لیکن اخلاص اور قربانی میں بہت اچھی ہے۔اور وہ سرگودھا کے ضلع کی جماعت ہے۔یہ اعلان پڑھا تو سب نے ہو گا لیکن جمعہ کے احترام کے طور پر میں یہ نہیں کہتا کہ بتاؤ کس شخص نے اس اعلان پر غور کیا ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ 99 فیصدی لوگ ایسے ہوں گے جنہوں نے اس اعلان کو دیکھا، اس پر نظر ڈالی اور چل دیئے لیکن اس قسم کا اعلان ایسا نہیں کہ اس پر غور نہ کیا جائے۔اس لئے اس قسم کے اعلانات شائع کئے جانے چاہئیں۔میرے منہ سے یہ نکلنے لگا تھا کہ اس قسم کے اعلانات شائع کئے جاتے ہیں۔لیکن مجھے فوراً خیال آگیا کہ یہ بات غلط ہے۔اصل کی میں یہی لفظ درست ہیں کہ اس قسم کے اعلانات شائع کرنے چاہئیں۔اس لئے کہ اگر میں یہ کہتا تج کہ اس قسم کے اعلانات شائع کئے جاتے ہیں تو اس سے بیت المال کی براءت ہو گی حالانکہ ج حقیقت یہ ہے کہ بیت المال نے یہ اعلان شائع کر کے اپنے آپ کو مجرم بنا لیا ہے۔اس لئے کہ اس نے اعلان کے نیچے میزان نہیں دی۔جب پندرہ ہیں بائیس جماعتوں کا نقشہ شائع کیا جاتا ہے تو اس کی غرض یہ ہوتی ہے کہ ان کا آپس میں مقابلہ کیا جائے اور مقابلہ میز ان کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ہر انسان قلم پنسل لے کر نہیں بیٹھ سکتا اور نہ ہر انسان میں اتنا جوش ہوتا ہے کہ وہ اس قسم کے اعلانات پڑھ کر حساب لگائے۔میں نے حساب لگایا تو آٹھ دس منٹ لگ گئے۔پھر چونکہ میں کی نے زبانی حساب لگایا تھا اس لئے ہو سکتا ہے کہ اس میں کچھ غلطی رہ گئی ہو کیونکہ زبانی حساب لگانے میں بھول ہو جاتی ہے لیکن میں نے جو حساب لگا یا اگر چہ میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ پورا صحیح تھا اس سے جو نتیجہ نکلا وہ نہایت خطر ناک تھا۔نقشہ سے معلوم ہوتا ہے کہ تمیں ہزار روپیہ کی وصولی ہوئی ہے اور پینتالیس ہزار کی نادہندگی ہے۔گو یا اتنی بڑی شاندار جماعت کی وصولی 40 فیصدی ہے۔دوسری جماعتیں جو قربانی میں اس جماعت سے کم ہیں جن کو نہ تو اچھا امیر نصیب ہوا ہے اور نہ ان کی مالی حالت اچھی ہے اور نہ وہ قربانی کے جوش میں اچھے سمجھے جاتے ہیں ان کی وصولی تو 15، 20 یا 30 فیصدی ہوگی۔یہ علامت نہایت خطرناک ہے۔اور اس سے جو رنج کا پہلو پیدا ہوا ہے وہ یہ ہے کہ بہترین جماعتوں میں سے ایک جماعت صرف 40 فیصدی چندہ دیتی ہے۔بلکہ حقیقت یہ ہے کہ