خطبات محمود (جلد 33) — Page 115
1952ء 115 15 خطبات محمود دنیا کے نشیب و فراز انسان کے لئے قدرت کے اشارے ہیں کہ بڑھتے اور ترقی کرتے چلے جاؤ آج دنیا کے پردے پر صرف جماعت احمد یہ ہی ہے جسے خدا نے اپنے عرش سے یہ کہا ہے کہ اُٹھ اور میں تجھے اٹھاؤں گا فرموده 9 مئی 1952 ء بمقام ربوہ ) تشہد ، تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے حسب ذیل آیات قرآنیہ کی تلاوت کی : إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَواتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَا يَتِ لِأُولى الْأَلْبَابِ - الَّذِينَ يَذْكُرُونَ اللَّهَ قِيمًا وَقُعُودًا وَعَلَى جُنُوبِهِمْ وَيَتَفَكَّرُونَ فِي خَلْقِ السَّمَوتِ وَالْأَرْضِ رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَذَا بَاطِلاً سُبْحَنَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ - 1 اس کے بعد فرمایا : انسان کو اللہ تعالیٰ نے سب سے بڑی دولت غور وفکر کی عطا فرمائی ہے اور یہی وہ دولت ہے جو کہ انسان کو دوسرے جانوروں سے ممتاز کرتی ہے ۔ انسان کی تعریف منطقیوں نے حیوانِ ناطق کے الفاظ میں کی ہے ۔ جب منطق کی ابتدا ہوئی تو پہلے پہل لوگوں نے یہ سمجھا کہ انسان اور دوسرے جانوروں میں یہ فرق ہے کہ انسان بولتا ہے اور دوسرے جانور نہیں بولتے ۔ لیکن آہستہ آہستہ