خطبات محمود (جلد 33) — Page 116
1952 116 خطبات محمود جب انہیں معلوم ہوا کہ بعض جانور بھی انسانی زبان سیکھ لیتے ہیں جیسے طوطے ہیں یا مینا ئیں وغیرہ کی ہیں ، جب انہیں معلوم ہوا کہ جانوروں کی چیں چیں بھی اپنے اندر کچھ معنی رکھتی ہے ، جب انہوں نے دیکھا کہ چیونٹیاں جب چل رہی ہوتی ہیں اور وہ ایک دوسرے سے ملتی ہیں تو جو چیونٹی غلہ یا کوئی اور چیز دیکھ کر ایک جگہ سے آ رہی ہوتی ہے وہ آنے والی چیونٹی سے ہاتھ ملاتی ہے اور وہ کی آنے والی چیونٹی سیدھی اُس جگہ چلی جاتی ہے جہاں غلہ ہوتا ہے اور اسے سنبھال لیتی ہے، جب انہوں نے دیکھا کہ شہد کی مکھیاں جہاں پھولوں کا ذخیرہ ہوتا ہے وہاں اکٹھی ہو جاتی ہیں اور کی ایک دوسرے کی راہنمائی سے شہر کے مخازن کا پتا لگا لیتی ہیں، جب انہوں نے اس قسم کے کی اشارات جانوروں میں دیکھے تو انہوں نے سمجھ لیا کہ جہاں تک بولی کا تعلق ہے اس کے لحاظ سے تو آدمیوں کی بولی میں بھی بڑا فرق پایا جاتا ہے۔کوئی انگریزی بول رہا ہے، کوئی فرانسیسی بول رہا ہے، کوئی جرمن بول رہا ہے، کوئی نارو تسکین بول رہا ہے ، کوئی سویڈش بول رہا ہے، کوئی فنش بول رہا ہے، کوئی رشین بول رہا ہے، کوئی پولش بول رہا ہے، کوئی عربی بول رہا ہے، کوئی سواحیلی بول رہا ہے، کوئی فیٹی (FANTI) بول رہا ہے، کوئی پنجابی بول رہا ہے ، کوئی اردو بول رہا ہے، کوئی بنگالی بول رہا ہے، کوئی چینی بول رہا ہے، کوئی ملائی بول رہا ہے۔غرض الگ الگ قسم کی سینکڑوں کی بولیاں دنیا میں پائی جاتی ہیں۔کچھ لوگوں کی اور بولی ہوتی ہے اور دوسروں کی اور۔مگر باوجود اس کے جب سب کو بولنے والا سمجھا جاتا ہے تو کیا وجہ ہے حلق سے نکلنے والی بولی کو تو بولی کہانی جائے اور پاؤں یا ہا تھ سے نکلنے والی بولی کو بولی نہ سمجھا جائے۔آخر اپنے اپنے رنگ میں بندر بھی بولتے ہیں ، چڑیاں بھی بولتی ہیں اور ان کی آوازوں میں اشارے ہوتے ہیں اور ہم دیکھتے ہیں کہ ان اشاروں کے بعد جانور ایک خاص رُخ اختیار کر لیتے ہیں۔پس یہ نہیں کہا جا سکتا کہ انسان کی تو بولتا ہے مگر جانور نہیں بولتے۔جب منطقیوں نے یہ دیکھا تو انہوں نے سمجھا کہ حیوانِ ناطق کی یہ تشریح غلط کی گئی ہے۔تب انہوں نے ناطق کے اور معنی کر لئے اور کہا کہ ناطق کے معنی یہ ہیں کہ وہ فکر کر کے نئی ایجادات کرتا ہے اور ترقی کی طرف اس کا قدم بڑھتا چلا جاتا ہے۔پس حیوانِ ناطق کی آخری تشریح انہوں نے یہ کی کہ اس کے یہ معنی نہیں کہ جو بولتا ہے وہ انسان ہے۔کیونکہ بولتے جانور بھی ہیں چاہے ان کی بولیاں اور رنگ کی ہیں بہر حال چڑیوں میں ، طوطوں میں،