خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 341

1952 341 خطبات محمود ذکر قرآن کریم کی اس آیت میں ہے کہ قیامت تک تم میں ایک ایسی جماعت رہنی چاہیے جو کی تبلیغ اسلام کا کام کرے 5۔یہ آیت ایک دن کے لئے نہیں، یہ آیت دو دن کے لئے نہیں بلکہ یہ آیت قیامت تک کے لئے ہے۔اسی طرح تحریک جدید بھی قیامت تک کے لئے ہے کیونکہ یہ اس آیت کا ترجمہ ہے۔جو شخص اپنی اس ذمہ داری کو سمجھتا ہے وہ قرآن کریم کو مانتا ان ہے۔اور جو اپنی اس ذمہ داری کو نہیں سمجھتا وہ قرآن کریم کو نہیں مانتا۔اور جتنا جتنا کوئی شخص اس کی تحریک سے دور ہے اُتنا ہی وہ خدا تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری سے دور ہے۔پس میں آج تحریک جدید کے انیسویں سال کا اعلان کرتا ہوں۔اگر تم میں ایمان ہے تو تمہیں یہ کہنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ اس انہیں کو اڑ میں بنائے اور اڑتمیں کو چھہتر بنائے اور اس تحریک کو اُس وقت تک لمبا کرے جب تک کہ ہم آخری سانس موت کے حوالہ نہ کر دیں۔لڑائی میں مارا جانے والا سپاہی اور وہ سپاہی جو لڑائی میں مارا نہیں جاتا ( ہاں وہ حکومت کا فرمانبردار ہوتا ہے ) بظاہر دونوں برابر معلوم ہوتے ہیں۔لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ لڑائی میں مارا جانے والا سپاہی دوسرے سپاہی سے درجہ میں بلند ہے۔جہاد قلمی اور سیفی دونوں طرح کا ہوتا ہے۔جس طرح سیفی جہاد میں مارا جانے والا شخص بلند مرتبہ پاتا ہے۔اسی طرح جو شخص تنظیم اور تبلیغ کے جہاد میں مرتا ہے اُس کا مقام بھی بہت بلند ہوتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق کون کہہ سکتا ہے کہ آپ جہاد کرتے ہوئے فوت نہیں ہوئے۔آپ آخری دم تک تبلیغی تنظیمی اور تعلیمی جہاد کرتے رہے اور اسی جہاد کے دوران میں آپ فوت ہوئے۔پس ہر مومن جو اس جہاد میں حصہ لیتا رہے گا وہ اسے لمبا کرتا جائے گا۔ہاں چونکہ اب مختلف دور بن جائیں گے اس لئے جو لوگ اس جہاد میں پہلے شریک ہوئے وہ اَلسَّابِقُونَ الاَوَّلُونَ کا خطاب پائیں گے۔کیونکہ سب۔پہلے دین کے جھنڈے کو بلند کیا۔اور باقی لوگ صرف مجاہد کہلائیں گے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان مجاہدین میں سے بھی بعض لوگ اَلسَّابِقُونَ الاَوَّلُونَ ہوں گے۔لیکن جو لوگ ابتدا میں اس جہاد میں شریک ہوئے وہ بحیثیت جماعت السَّابِقُونَ الاَوَّلُونَ قرار پائیں گے۔اور بعد میں آنے والے صرف انفرادی طور پر اس مقام کو حاصل کر سکتے ہیں۔جب بیعت رضوان ہوئی تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ آپ مرتے دم تک مکہ والوں کے ساتھ لڑیں گے۔آپ نے حضرت عثمان کو بطور ایچی مکہ والوں کی طرف