خطبات محمود (جلد 33) — Page 340
1952 340 خطبات محمود موجود رہیں گے جو اسلام میں داخل نہ ہوں گے تو اُن کو منوانے کے لئے بھی بعض مبلغین کی کی ضرورت رہے گی۔لڑکیاں ایک کھیل کھیلتی ہیں۔اب تو وہ کھیل کھیلتے میں نے لڑکیوں کو نہیں کی دیکھا، پہلے اس کھیل کا رواج زیادہ تھا۔وہ کھیل اِس طرح کی ہوتی ہے کہ پانچ چھ لڑ کیاں ایک طرف کھڑی ہو جاتی ہیں اور پانچ چھ لڑکیاں ایک طرف کھڑی ہو جاتی ہیں۔ایک طرف کی لڑکیاں دوسری طرف کی لڑکیوں کے پاس آتی ہیں تو وہ غالباً اُن سے رشتہ مانگتی ہیں یا کوئی اور چیز مانگتی ہیں۔بہر حال وہ سائل بن کر آتی ہیں اور اپنا سوال پیش کرتی ہیں۔تو دوسری طرف کی لڑکیاں کہتی ہیں ہم نے نہیں دینا۔اور جب وہ کہتی ہیں نہیں دینا تو کھیل شروع ہو جاتی ہے۔ایک طرف کی لڑکیاں کہتی ہیں۔نہیوں دینا دوسری کہتی ہیں ”لے کے رہنا اور دیر تک یہ مشغلہ جاری رہتا ہے دونوں فریق اپنی ضد پر مُصر ہوتے ہیں۔اسی طرح قرآن کریم کہتا ہے کہ قیام تک کچھ لوگ ایسے موجود رہیں گے جو کہیں گے ہم نے نہیں ماننا۔تو تمہارا بھی یہ کام ہے کہ تم کہو ہم نے منوا کر چھوڑنا ہے۔تمہارا ایمان اور جذبہ بہر حال چھوٹی بچیوں سے زیادہ ہونا چاہیے۔تمہاری غیرت اُن سے زیادہ ہونی چاہیے۔اگر اُن میں سے ایک فریق یہ کہتا ہے کہ ہم نے نہیں دینا تو وہ دوسری لڑکیاں کہتی ہیں کہ ہم نے لے کر جانا ہے۔تو تمہارا بھی یہ کام ہے کہ اگر کچھ ایسے لوگ ہوں جو کہیں ہم نے نہیں ماننا تو تم کہو ہم نے منوا کر چھوڑ نا ہے۔غرض یہ خدا تعالیٰ کی حکمت ہے کہ اس نے پہلے مجھ سے چند سال کے لئے تحریک کر وائی اور کی پھر ا سے اور بڑھوا دیا۔اور جب آخری سال یعنی انیسواں سال قریب آیا تو اُس نے یہ ظاہر کر دیا ج کہ یہ انیس کا عدد کوئی چیز نہیں۔جب تک میں اور آپ لوگ زندہ ہیں یہ فرض ہے جو خدا تعالیٰ نے ہمارے ذمہ لگایا ہے۔اور جب تک ہماری اولادیں زندہ رہیں گی اُس وقت تک یہ فرض ہے جو جی اُن کے ذمہ لگایا گیا ہے اسے کوئی ہٹا نہیں سکتا۔اور اسی طرح ہر نسل پر واجب ہوتا جائے گا۔اگر تم ایک زندہ قوم ہو تو یہ فرض تم سے تمہاری اولادوں کی طرف اور تمہاری اولادوں سے اُن کی یی اولادوں کی طرف قیامت تک منتقل ہوتا رہے گا۔اور اگر تم زندہ قوم نہیں ہو تو تم میں سے جن کی میں سچا ایمان پایا جاتا ہے وہ جب تک زندہ رہیں گے اور موت اس دنیا سے انہیں دوسری دنیا می میں نہیں لے جاتی اُس وقت تک وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا نام بلند کرتے رہیں گے۔گویا می تحریک جدید ایک دن کی نہیں وہ دو دن کی نہیں بلکہ ہر مومن کے لئے ہمیشہ کے لئے ہے۔اس کا کی