خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 342

1952 342 خطبات محمود بھیجا تھا۔اور ان کے متعلق مشہور ہو گیا تھا کہ مکہ والوں نے انہیں قتل کر دیا ہے۔اور ایلچی کا قتل کیا جانا نہ صرف مسلمانوں میں بلکہ اُس وقت کے کفار میں بھی بُراسمجھا جاتا تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دل میں فیصلہ کر لیا کہ اگر یہ بات سچی نکلی تو آپ مکہ والوں سے لڑیں گے اور پیچھے نہیں ہٹیں گے۔بعض لوگوں کی نظریں ایمان کی وجہ سے وسیع ہوتی ہیں۔بنو اسد کا ایک آدمی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا یا رسول اللہ ! میں آپ کی بیعت کرنا چاہتا ہوں۔آپ نے فرمایا کہ تم کس بات پر بیعت کرنا چاہتے ہو؟ اُس نے عرض کیا میں اُس چیز کے لئے بیعت کی کرنا چاہتا ہوں جو آپ کے دل میں ہے۔وہ آپ کے چہرہ مبارک کو دیکھ کر پہچان گیا تھا کہ آپ کا فیصلہ کیا ہے۔آپ نے فرمایا میرے دل میں کیا ہے؟ اُس شخص نے کہا یہی کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں مارے جائیں یا فتح حاصل کر لیں۔آپ نے اپنا ہاتھ بڑھا دیا اور اُس شخص نے بیعت کر لی۔کی غرض وہ پہلا شخص تھا جس نے بیعت رضوان کے موقع پر خود پیش ہو کر بیعت کی۔اس کے بعد باقی ہی صحابہ آگے بڑھے اور سب نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی 6۔اور اس واقعہ کے بعد جب کبھی صحابہ بنو اسد کے کسی شخص سے ملتے تو ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ بیعت رضوان میں تم لوگوں کو ہم پر فضیلت حاصل ہے۔کیونکہ تم نے اس بات میں ابتدا کی اور اس طرح اس فخر کو حاصل کر لیا۔تو مومن ایمان کی وجہ سے یہ کوشش کرتا ہے کہ وہ آگے بڑھے اور اپنی خدمات پیش کرے۔بے شک دنیا میں تغیرات بھی آئیں گے، خرابیاں بھی ہوں گی ، قحط بھی پڑیں گے، مصائب اور آفات بھی آئیں گی۔لیکن جو شخص مومن ہے اُس کا قدم آگے ہی آگے بڑھتا چلا جائے گا۔قحط اور مصائب اس کے قدم کو سُست نہیں کریں گے۔پس تحریک جدید کو آگے بڑھانا ہمارا کام ہے۔کام کہیں ختم نہیں ہوتا۔پہلی جماعت جس نے اس میں حصہ لیا وہ اَلسَّابِقُونَ الْاَوَّلُونَ کہلائے گی اور جو بعد میں آئے وہ مجاہد کہلائیں گے۔پھر ان مجاہدین میں سے بھی بعض اپنے اپنے وقت میں سَابِقُونَ ہوں گے۔لیکن یہ صرف بحیثیت فرد سا بقُونَ ہوں گے۔اور جو جماعت پہلے دور میں اس جہاد میں شریک ہوئی وہ مِنْ حَيْثُ الْجَمَاعَتْ السَّابِقُونَ الأَوَّلُونَ ہوگی۔میں تحریک جدید کے کارکنوں کو بھی اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ وہ اپنے اندر ایمان پیدا کریں۔افسوس ہے کہ کا رکن کام کو اس طرح نہیں کرتے کہ چندے سو فیصدی جمع ہوں۔مثلاً دور دوم کا ہمیشہ ہی یہ حال رہا ہے کہ وہ کبھی سو فیصدی پورا نہیں ہوا۔میں یہ نہیں سمجھتا کہ اس دور کی