خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 318 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 318

1952 318 خطبات محمود دولت کھا رہی ہوتی ہے دولت کما نہیں رہی ہوتی۔ملک کو دولت دینے والے اُس کے تاجر ، پیشہ ور ، کارخانہ دار، ایکسپورٹ امپورٹ کرنے والے، بینکوں والے، کمپنیوں والے، اور زمیندار وغیرہ ہوتے ہیں۔نوکر دولت کھاتے ہیں لیکن ہمارے ملک میں دولت کھانے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور دولت دینے والوں کی تعداد کھانے والوں کی نسبت بہت کم ہے۔چنانچہ ہر زمیندار کا لڑکا جب جوان ہوتا ہے تو وہ یہ خیال کرتا ہے کہ وہ تھانیدار بنے گا ، وہ تحصیلدار بنے گا ، یا جج بنے گا۔کوئی بھی ایسا نوجوان نہیں ہوگا جو یہ کہے کہ بجائے اس کے کہ میں تھانیدار بنوں ،تحصیلدار بنوں یا جج بنوں میں کما کر ملک کو کھلاؤں گا۔پس ہمارا دنیوی حصہ بھی بہت کمزور نظر آتا ہے۔میرے نزدیک جتنے لوگوں کی حکومت کو ضرورت ہے اُن کے علاوہ دوسرے لوگوں کو خود آزاد پیشوں کے ذریعہ روزی کمانے کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔اس سے ملک کو ترقی حاصل ہوگی۔بے شک انہیں شروع میں نقصان بھی اٹھانا پڑے گا لیکن جتنے موجد دنیا میں گزرے ہیں اُن کے حالات پڑھ لو بعض لوگوں نے تو کئی سالوں کے فاقہ کے بعد ایجادیں کی ہیں۔مشہور واقعہ ہے۔جرمنی میں ایک نواب تھا۔اُسے خیال پیدا ہوا کہ لو ہے یا تانبے کے برتنوں پر اگر کسی طرح چینی چڑھا دی جائے تو اس سے بڑا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔چنانچہ اُس نے تام چینی یار کرنے کے متعلق تجربات کرنے شروع کئے۔وہ اپنی ساری جائیداد بیچ کر تام چینی تیار کرنے پر لگا تا رہا۔لیکن اپنی ساری جائیداد لگانے کے بعد بھی اُسے کام میں کامیابی نہ ہوئی۔لیکن جتنی کامیابی ہوئی وہ سمجھتا تھا کہ وہ اُتنا ہی اپنے مقصد کے قریب ہوتا جا رہا ہے۔وہ غریب ہو گیا اور دوستوں اور رشتہ داروں نے اُس کی امداد کرنی شروع کر دی۔چنانچہ وہ بھیک پر گزارہ کرتا تھا اور رات دن تام چینی تیار کرنے میں لگا رہتا تھا۔ایک دن اُس کے رشتہ داروں یا کسی دوست کے ہاں اُس کی دعوت تھی۔انہوں نے نہایت اصرار سے اُسے بلایا تھا۔لیکن اُس نے اپنی بیوی کی کو وہاں بھیج دیا اور خود دھونکنی چلانے میں مصروف رہا تا کہ تام چینی تیار ہو جائے۔آگ جلاتے ہی جلاتے لکڑیاں ختم ہو گئیں۔اُس کے پاس پیسے نہیں تھے کہ وہ اور لکڑیاں خرید لیتا۔اس نے کرسیاں اور میز توڑ کر جلانے شروع کئے۔جب وہ آخری سامان جلا کر تام چینی تیار کرنے میں کی مصروف تھا تو اُس نے ایک روشنی دیکھی جس کے متعلق اُس کا یہ خیال تھا کہ وہ کامیابی کے وقت اُسے نظر آئے گی۔لیکن ادھر اُس نے کامیابی دیکھی اور اُدھر لکڑیاں ختم ہو گئیں۔اُس کے پاس کی