خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 319 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 319

1952 319 خطبات محمود ایک ہی کرسی باقی رہ گئی تھی جس پر وہ خود بیٹھا کرتا تھا۔اُس نے اپنے بیٹے کو جو اس کے ساتھ کام کر رہا تھا آواز دی کہ اس کرسی کو توڑ ڈال اور بھٹی میں ڈال دے تا کہ کام خراب نہ ہو۔لڑکے نے ہچکچاہٹ ظاہر کی تو اُس نے اُسے خود توڑا اور بھٹی میں جھونک دیا۔یہ آخری ایندھن جب وہ جلا رہا تھا تو اُسے وہ روشنی نظر آگئی جو اُس کی کامیابی کا پیغام اُسے دے رہی تھی۔وہ خوشی میں نیچے گر گیا اور اس نے اپنے بیٹے سے مخاطب ہو کر کہا۔اب تمہاری تکلیف کے دن ختم ہو گئے ہیں۔غرض یہ تام چینی جس سے تمہارے کھانے کے برتن ، پیشاب اور پاخانہ کے برتن بلکہ آگ پر چڑھانے والی کیتلیاں بھی اب تیار ہونے لگی ہیں تم نہیں جانتے کہ اُس مالدار شخص نے اپنی ساری جائیداد اس کی تیاری میں تباہ کر دی تھی اور اب دنیا میں تام چینی کے سینکڑوں کارخانے چل رہے ہیں۔پس بغیر قربانی کے تم کامیابی کی امید کیسے کر سکتے ہو۔کوئی جلسہ ہوا اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگا دیئے گئے تو اس سے پاکستان زندہ کیسے ہوا۔جب عمل مُردہ باد والا ہے تو پاکستان زندہ کیسے ہو سکتا ہے۔پس ہمارے نوجوانوں کو محنت کی عادت پیدا کرنی چاہیے۔مثلاً زمیندار ہیں۔آج کل قحط کی وجہ سے وہ کتنا شور مچارہے ہیں۔مجھے بھی لوگ کہتے ہیں کہ کوئی ایسی تدبیر کیجئے یا ہمیں کوئی تجویز بتائیے جس پر عمل کر کے ہم اس قحط کا مقابلہ کرسکیں۔لیکن سوال یہ ہے کہ اس قحط میں ہمارا بھی کوئی حصہ ہے یا نہیں ؟ کیا ہمارا زمیندار زمین میں اُسی طرح دانے ڈالتا ہے جس طرح دانے ڈالنے کی ضرورت ہے؟ کیا وہ اُسی طرح تلائی کرتا ہے جس طرح ملائی کی کرنے کی ضرورت ہے؟ کیا وہ اُسی طرح ہل چلاتا اور کھیت کو پانی دیتا ہے جس طرح ہل چلانے اور پانی دینے کی ضرورت ہے؟ کیا وہ دانے بے اصول نہیں ڈال دیتا؟ کیا جب وہ کھیت کو پانی دیتا ہے تو پانی ادھر اُدھر تو نہیں نکل جاتا ؟ کیا اُس کے کھیت میں اس قدر گھاس پیدا تو نہیں ہو جا تا تج کہ اصل فصل نظر ہی نہ آئے؟ کیا جب وہ ہل چلاتا ہے تو اس طرح نہیں ہوتا کہ وہ ہاتھ میں حقہ پکڑے ہوئے ہوتا ہے؟ بیل ٹھو کر کھاتا ہے اور ہل زمین سے اوپر اٹھ جاتا ہے اور بیچ میں کچھ جگہ خالی چھوٹ جاتی ہے۔جہاں ہل نہیں چلا ہوتا یا ناقص ہل چلتا ہے؟ اگر وہ یہ ساری احتیاطیں کرتا ت تو آج ہمارے ملک میں دو گنی پیداوار ہوتی۔اور اگر ہماری گندم کی پیدا وار ڈبل ہوتی تو آج قحط کی کیوں پڑتا۔لیکن ہوا یہ کہ آج گندم 22، 23 روپے فی من پک رہی ہے اور اس میں زمیندار کا اپنا قصور ہے۔اگر وہ ذرا سی بھی توجہ کرتا تو آج ملک میں قحط نہ ہوتا۔