خطبات محمود (جلد 33) — Page 317
1952 317 خطبات محمود ہیں۔مگر جن بے امن ملکوں میں ایسا ہوتا ہے وہاں پبلک طور پر یہ ہوتا ہے کہ فلاں کو ماردو، فلاں کو پھانسی دے دو۔ہم تو ایک متمدن ملک میں رہ رہے ہیں۔جس کے وزراء اور افسر چاہے ان میں سے بعض لوگ احرار کی پیٹھ ٹھونکتے ہوں دوسری حکومتوں کے رُعب کی وجہ سے یا نیک نامی حاصل کرنے کی خاطر یا اسلام کی محبت کی وجہ سے یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ کسی کو مذہب کی وجہ سے قتل کیا جائے۔پس جب ہمیں اتنی بڑی قربانیاں نہیں کرنی پڑتیں جو پہلوں کو کرنی پڑیں یا اب بھی بعض قو میں کر رہی ہیں تو کیا وجہ ہے کہ ہم قربانی کرنے میں پس و پیش کریں۔یہ یقیناً ہماری کمزوری کی علامت ہے۔پھر جو لوگ قربانی پیش کرتے ہیں انہیں بھی دیکھتا ہوں کہ وہ بھی ج کمزوری دکھاتے ہیں۔انسان کو کم از کم کسی ایک طرف تو ہونا چاہیے۔انسان یا تو خدا تعالیٰ کا ہو گی رہے یا دنیا کا ہور ہے۔ہمارے ہاں پنجابی میں کہاوت ہے کہ یا توں اُس دے لڑ لگ جایا اس دے لڑ لگ جائے یہ ایک محاورہ ہے۔جس کے معنی ہیں کہ تو کسی کے دامن سے وابستہ ہو جا۔کیونکہ دنیا میں عزت اُسی کی ہوتی ہے جو کسی کے دامن سے وابستگی رکھتا ہے۔یا تو خدا تعالیٰ کے دامن سے وابستہ ہو جا اور یا دنیا کا دامن پکڑ لے۔یہ نہیں کہ تو کسی کے دامن سے بھی وابستہ نہ ہو۔میں نے بار ہا نو جوانوں کو توجہ دلائی ہے کہ وہ اپنی تعلیم کی طرف توجہ کریں۔وہ ان باتوں کو نہ دیکھیں کہ فلاں قسم کی تعلیم حاصل کرنے سے انہیں فلاں محکمے میں ملازمت مل جائے گی۔حقیقت تو یہ ہے کہ انہیں یہ خیال بھی نہیں کرنا چاہیے کہ انہیں کوئی ملازمت مل جائے گی۔کیونکہ ہم دیکھتے ہیں کہ جس ملک کا بھی تمدن اعلیٰ ہے اُس کے کاریگر اور دوسرے پیشہ ور، ملازموں کی نسبت زیادہ مُرفه الحال 1 ہوتے ہیں۔آبادی کا بہت تھوڑا حصہ ملازموں کا ہوتا ہے زیادہ حصہ دوسرے لوگوں کا ہوتا ہے۔ایشیائیوں کی خواہش تو یہ ہے کہ وہ ترقی کریں لیکن جن ذرائع سے ترقی ہوتی ہے انہیں اختیار کرنے کی طرف ان کی توجہ نہیں۔کوئی چیز بھی قربانی کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتی۔ادھر تو یہ شور مچایا جا رہا ہے کہ برطانیہ، امریکہ اور فرانس ساری دولت لے گئے ہیں اور ادھر اعمال وہ ہیں جو دولت کمانے والے نہیں۔جب ایشیائی لوگ وہ اعمال نہیں کریں گے جو دولت دینے والے ہوں تو دولت آئے گی کس مرح۔ملازم دولت کما نہیں رہا ہوتا وہ دولت کھا رہا ہوتا ہے۔مثلاً پولیس وغیرہ ہے وہ ملک کی کی