خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 292 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 292

1952 292 خطبات محمود میں بعض دفعہ سالوں میں جا کر فرق پڑتا ہے۔جیسی نماز انہوں نے آج پڑھی ہے بجائے اس کے کہ اس سے اچھی نماز پڑھنے کی توفیق انہیں دوسری نماز میں مل جائے یا دوسرے دن مل جائے کی بعض دفعه سال سال بعد ملتی ہے یا کئی سالوں کے بعد ملتی ہے۔جس طرح گھسٹ کر چلنے والے کی نجی کوئی رفتار نہیں ہوتی ان کی بھی کوئی رفتار نہیں ہوتی۔جتنے اخلاص کے ساتھ انہوں نے اس سال روزے رکھے ہیں اس سے زیادہ اخلاص کے ساتھ روزے رکھنے کی توفیق انہیں اگلے سال نہیں ملتی بلکہ کئی سال گزرنے کے بعد ملتی ہے۔گویا اُن کے اعمال میں اتنا تھوڑا فرق ہوتا ہے جتنا گھسٹ کر چلنے والے کی رفتار میں ہوتا ہے۔جو بچہ گھٹنوں کے بل چلتا ہے وہ ایک عرصہ تک ہماری آنکھ کے سامنے رہتا ہے لیکن جو شخص گھوڑے پر سوار ہوتا ہے وہ بہت جلد ہماری آنکھوں کے سامنے سے گزر جاتا ہے۔پھر بجلی کا تو پتا نہیں لگتا۔پس ایک اعلیٰ درجہ کا مومن تو اپنے ایمان میں اتنی جلدی ترقی کرتا ہے کہ دوسرے کو پتا بھی نہیں لگتا۔ایک دن وہ کوشش شروع کرتا ہے۔دوسرے دن وہ صالحین میں شامل ہو جاتا ہے۔تیسرے دن وہ شہید بن جاتا ہے۔چوتھے دن وہ صدیق بن جاتا ہے اور اگر اسے نبوت کے درجہ پر فائز ہونا ہے تو پانچویں دن وہ نبوت کا درجہ حاصل کر لیتا ہے اور وہ بجلی کی سی تیزی سے آگے نکل جاتا ہے۔یہی پل صراط ہے جس کا حدیثوں میں ذکر آتا ہے اور اس کی ساری حکمت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حرکت میں بتائی ہے۔روحانی مدارج کے فرق کو آپ نے حرکت کے ذریعہ واضح کیا ہے اور آپ نے بتایا ہے کہ کوئی شخص سرین کے بل گھسٹ رہا ہوتا ہے۔کوئی شخص چار پایوں کی طرح چار پاؤں پر چل رہا ہوتا ہے۔کوئی انسان کی طرح دوڑ رہا ہوتا ہے اور کوئی بجلی کی طرح دوڑ رہا ہوتا ہے۔ہر شخص جانتا ہے کہ یہ سب لوگ حرکت کر رہے ہوتے ہیں۔لیکن بعض بد بخت ایسے ہوتے ہیں جو چل نہیں کی رہے ہوتے جنہیں یہ احساس بھی نہیں ہوتا کہ خدا تعالیٰ نے انہیں چلنے کے لئے پیدا کیا ہے۔نمازیں پڑھنے کا اگر خدا تعالیٰ نے انہیں حکم دیا ہے تو وہ کبھی غور نہیں کرتے کہ یہ حکم انہیں کیوں دیا ت گیا ہے۔عرش پر بیٹھے ہوئے ساری حکمتوں کے مالک خدا کو کیا ہوا کہ اس نے انسان کو یہ حکم دیا تی کہ وہ کھڑا ہو کر رکوع میں جائے پھر سجدہ میں جائے پھر اٹھے۔اسے کیا شوق آیا تھا کہ اس نے کی انسان کو یہ حکم دے دیا کہ وہ ایک سال کے بعد پورا ایک مہینہ رات کو اٹھے کھانا کھائے۔دن کے وقت نہ وہ کھانا کھائے اور نہ پانی پئے اور غروب آفتاب کے بعد وہ روزہ افطار کرے۔اسے