خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 293 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 293

1952 293 خطبات محمود اس کھیل کی کیا ضرورت تھی؟ اور اگر اللہ تعالیٰ کے ان احکام میں کوئی حکمت ہے تو انسان کو سوچنا ہے چاہیئے کہ میں اُسے پورا کر رہا ہوں؟ کیا اس کے لئے میں نے تھوڑی بہت کوشش کی ہے؟ اگر وہ کسی اس حکمت کو پورا کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو اُس کی نماز ، اُس کا روزہ ، اُس کی زکوۃ ، اُس کا چندہ اور اُس کا صدقہ درست ہو جاتے ہیں۔اگر اسے یہ احساس ہے کہ اسے کوشش کرنی چاہیے تو بہر حال وہ کسی نہ کسی گروہ میں شامل ہو جائے گا۔وہ پل صراط میں سے ضرور گزر جائے گا چاہے وہ سرین کے بل گھسٹ رہا ہو چاہے وہ پیدل چل رہا ہو۔وہ گھوڑے کی طرح دوڑ رہا ہو چاہے وہ کی ہوا کی طرح اڑ رہا ہو اور چاہے وہ بجلی کی سی تیزی کے ساتھ جارہا ہو۔ہر شخص یہ سمجھے گا کہ وہ چل ج رہا ہے۔اگر وہ اگلے منٹ میں نہیں پہنچتا تو ایک گھنٹہ تک پہنچ جائے گا۔اگر وہ ایک گھنٹہ تک نہیں کہ پہنچ سکتا تو وہ اگلے دن وہاں پہنچ جائے گا۔اگر وہ اگلے دن نہیں پہنچتا تو وہ اگلے سال پہنچ جائے ہے گا۔اگر وہ ایک سال کے بعد بھی نہیں پہنچتا تو وہ دس سال ہیں سال کے بعد پہنچ جائے گا۔اگر کوئی کی شخص سرین کے بل بھی چلنا شروع کر دے تو چاہے وہ پچاس سال کے بعد اپنی منزل مقصود پر پہنچے وہ پہنچ جائے گا لیکن جو شخص کھڑا ہے وہ ہیں صدیوں میں بھی اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکے گا۔جس شخص کے اندر احساس نہیں ، آرزو نہیں ، اُمنگ نہیں ، خواہش نہیں اس نے چلا س نے چلنا کیا ہے۔09۔نکلنے بد بخت جیسے ماں کے پیٹ سے نکلا ویسے ہی یہاں سے چلا جائے گا۔نہ ماں کے پیٹ۔نے اُس کے اندر کوئی تغیر پیدا کیا اور نہ قبر کے اندر جانے نے اُس کے اندر کوئی تغیر پیدا کیا۔ان کی معنوں میں نہیں کہ وہ ماں کے پیٹ سے گناہوں سے پاکیزہ نکلا بلکہ ان معنوں میں کہ جس طرح وہ گند میں لت پت ماں کے پیٹ سے نکلا اُسی طرح وہ اِس جہان سے گند میں لت پت چلا گیا۔پس مومن کو اپنی پیدائش کے مقصد پر غور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔قرآن کریم میں کثرت سے اس طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کس لئے پیدا کیا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میں نے کسی چیز کو عبث پیدا نہیں کیا 3۔لیکن کتنے ہیں جنہوں نے اس بات کی عادت تھی ڈال رکھی ہے کہ وہ روزانہ دو چار منٹ کے لئے ہی اس بات پر غور کر لیں کہ خدا تعالیٰ نے انسان مجھے کو کیوں پیدا کیا ہے۔اتنے بڑے خدا کو اس کھیل کی کیا ضرورت پڑی تھی۔جو صفات خدا تعالیٰ نے کی قرآن کریم میں بیان کی ہیں اُن پر غور کرو پھر اپنی طرف دیکھو۔کیا خدا تعالیٰ نَعُوذُ بِاللهِ بے عقل تھا کہ اُس نے تمہیں پیدا کر دیا اور پھر اُسے یہ کھیل کھیلنے میں کیا لطف آیا ؟ وہ سب