خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 226 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 226

1952 226 خطبات محمود ہمارے قدموں میں کسی قسم کا تزلزل اور کمزوری پیدا نہ ہو۔اور نہ صرف ہمارے قدموں میں کسی تی قسم کا تزلزل اور کمزوری پیدا نہ ہو بلکہ وَ انْصُرُنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَفِرِينَ مُمکن ہے کہ دشمن ہم پر غلبہ پا جائے۔اس لئے اے اللہ ! تو دشمن کے مقابلہ میں ہماری مدد و نصرت فرما۔جہاں چندا فراد نے بزدلی سے کام لیا ہے وہاں شاندار نمونے بھی ہیں۔ایک عورت کو کسی نے کہا کہ تیرا بیٹا احمدیت سے تائب ہو گیا ہے۔اِس پر اُس نے بڑے زور سے کہنا شروع کیا۔(یاد رکھو وہ اس کا اکلوتا بیٹا ہے۔( اے اللہ ! اس کی موت کی خبر میں بے شک سنوں اُس کے ارتداد کی خبر میں نہ سنوں۔خدام الاحمدیہ ملتان ، لائل پور اور بہت سی دوسری جگہوں کے خدام نی نے بڑی ہمت سے کام لیا ہے۔جَزَاهُمُ الله اَحْسَنَ الْجَزَاءِ۔بہر حال فتنہ ہے اور بہت بڑا ہے اور اس کا علاج دعائیں ہی ہیں۔ہمارا غلبہ تلوار سے نہیں دعاؤں سے ہوگا۔اور جب ہمارا غلبہ دلیلوں سے ہے تلواروں سے نہیں تو جب خدا تعالیٰ چاہے گا مخالفوں کے دل کھول دے گا۔دلوں کا تبدیل کرنا جہاں مشکل امر ہے وہاں آسان بھی۔کیونکہ خدا تعالیٰ انہیں ایک منٹ کے اندر بدل بھی سکتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے پاس ایک عرب آیا۔اُس کا جوش دیکھ کر آپ پر یہ اثر ہوا کہ اگر وہ ہدایت پا جائے تو عرب میں تبلیغ کے لئے مفید رہے گا۔مگر وہ اپنی ضد پر قائم رہا۔آخر آپ نے دعا کی اور دعا کے بعد جب اُس سے چند منٹ بحث کی تو خدا تعالیٰ نے اُس کا دل کھول دیا۔اور یا تو وہ باتوں باتوں میں گالیوں پر اتر آتا اور یونہی جوش میں آجاتا تھا اور یا وہ آپ کا چند منٹ میں ہی معتقد ہو گیا۔پس دلوں کا بدلنا مشکل بھی ہے اور آسان بھی ہے۔خدا تعالیٰ جب چاہتا ہے ایک منٹ میں دلوں کو بدل دیتا ہے۔بادشاہ تلواروں کی لڑائیاں لڑتے ہیں اور یہ لڑائیاں سالہا سال تک چلتی ہیں۔تو میں آپس میں گتھم گتھا ہوتی رہتی ہیں لیکن دل بدلتے ہیں تو ایک منٹ میں بدل جاتے ہیں۔پس دعائیں کرو اور کرتے جاؤ۔دشمن تلوار چلاتا ہے۔لوٹ مار کرتا ہے، آگ لگاتا ہے، بعض احمد یوں کو اس نے قتل بھی کر دیا ہے۔لیکن تمہاری لڑائی تلواروں کی نہیں۔تمہاری لڑائی دلیلوں کی ہے اور تمہاری دلیلوں کو مقبول خدا تعالیٰ نے بنانا ہے۔اگر خدا تعالیٰ ہدایت دے دے تو آج جو شخص تمہارا شدید دشمن ہے ممکن ہے وہ کل کو تمہارا گہرا دوست اور مددگار بن جائے۔اسی سلسلہ میں میں ایک اور بات بھی بیان کر دینا چاہتا ہوں۔موجودہ شورش سے متاثر ہو کر