خطبات محمود (جلد 33) — Page 227
1952 227 خطبات محمود ایک انگریزی اخبار کے نمائندے یہاں آئے اور انہوں نے مجھ سے انٹر ویولیا جو سول اینڈ ملٹری گزٹ میں شائع ہوا ہے اس میں ایک غلطی رہ گئی ہے جس کی تردید سول اینڈ ملٹری گزٹ کو بھجوا دی گئی ہے اور اگر خدا تعالیٰ نے چاہا تو وہ پرسوں یا اترسوں کے پرچہ میں شائع ہو جائے گی۔حملہ اس کے علاوہ جی باقی انٹرویو جو شائع ہوا ہے وہ قریباً قریباً صحیح ہے۔میں نے قریباً قریباً صحیح اس لئے کہا ہے کہ عبارت میں بعض معمولی غلطیوں کا رہ جانا ممکن ہے۔بعض جگہ معروف کی جگہ مجہول فعل استعمال ہو جائے تو مفہوم میں کچھ نہ کچھ فرق پڑ جاتا ہے اور لکھنے والا چاہے کتنا ہوشیار ہو اُس سے اس قسم کی غلطیاں ہو جاتی ہیں اور ان کے نتیجہ میں مطالب میں بھی تھوڑا سا فرق پڑ جاتا ہے۔لیکن ہر غلطی کی تر دید مشکل ہوتی ہے۔اگر ہر معمولی غلطی کی تردید کی جائے تو گزارہ مشکل ہو جاتا ہے۔گھروں میں اکثر اسی قسم کی اکثر غلطیاں ہوتی رہتی ہیں۔میرے ساتھ بھی گھر میں ایسے واقعات ہوتے ہتے ہیں۔کبھی پگڑی کا شملہ کوٹ کے اندر رہ جاتا ہے یا اسی قسم کی اور کوئی غلطی ہو جاتی ہے تو بیویاں کہتی ہیں ٹھہرئیے ٹھہریئے ذرا شملہ ٹھیک کر لیں۔اور بعض دفعہ پگڑی کا کوئی حصہ اونچا ہو جاتا ہے تو اس پر وہ آواز دینے لگ جاتی ہیں۔وہ ہمارے ہی مطلب کی بات ہوتی ہے مگر اتنی چھوٹی کہ جب ضروری کام کے وقت ایسا کیا جاتا ہے تو طبیعت پر گراں گزرتا ہے۔بہر حال یہ کی چھوٹے چھوٹے نقائص ہوتے ہیں انہیں اگر رہنے دیا جائے تو کوئی حرج نہیں ہوتا۔جب انسان کی چھوٹی چھوٹی گرفت یا غلطی کی اصلاح میں لگ جاتا ہے تو گزارہ مشکل ہو جاتا ہے۔اور اس کی ج حالت اُس شخص کی سی ہو جاتی ہے جس کے متعلق مشہور ہے کہ وہ نماز کی نیت باندھتے وقت پہلے کہتا تھا پیچھے اس امام کے اور پھر فہبہ کرتا تھا کہ شاید اشارہ ٹھیک نہیں ہوا۔آخر بڑھتے بڑھتے امام کے پاس پہنچ جاتا اور پہلے ڈور سے اشارہ کرتا اور پھر امام کو دھکے دینے لگ جاتا کہ پیچھے اس امام کے تب نماز کی نیت باندھتا۔پس اتنے وہم میں بھی نہیں پڑنا چاہیے۔صرف خدا تعالیٰ ہی ایک ایسی ذات ہے جو عیوب سے پاک ہے۔انسان میں بہت سے عیوب اور نقائص ہیں۔اور عیوب اور نقائص بعض اوقات اس کے لئے برکت کا موجب بن جاتے ہیں۔میرے اس بیان میں جو ایک انگریزی اخبار کے نمائندے نے لیا اور وہ سول اینڈ ملٹری گزٹ میں بھی شائع ہوا بعض کمزوریاں رہ گئی ہوں تو ممکن ہے لیکن سوائے اس غلطی کے کہ جس کا ازالہ یہ ترمیم شائع ہو چکی ہے۔دیکھو سول اینڈ ملٹری گزٹ صفحہ 3 مورخہ 1952-7-25۔