خطبات محمود (جلد 33) — Page 198
1952 198 خطبات محمود ہوتا ہے، وہ ان کی محبت رسول کو مار رہا ہوتا ہے ، وہ ان کے دین کے تعلق کو مار رہا ہوتا ہے۔کی بہر حال یہ ایک ضمنی بات ہے۔ان لوگوں کو اختیار ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں سے جو چاہیں کہیں اور ان کے ساتھیوں کو اختیار ہے کہ وہ ان کے کہنے پر جو چاہیں کریں۔لیکن ہماری جماعت اس بات کو نظر انداز نہیں کر سکتی کہ ایمان کے ساتھ ابتلا اور آزمائشیں بھی ہوا کرتی ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا خدا تعالیٰ نے ان سے بچاؤ کی بھی کوئی صورت بتائی ہے؟ اللہ تعالیٰ یہ تو فرماتا ہے کہ اگر تم ایمان کا دعویٰ کرتے ہو تو یہ بات مت نظر انداز کرو کہ تمہاری مخالفت کی جائے گی گی تم پر ابتلاء اور مصائب آئیں گے تمہیں ٹھوکریں لگیں گی تمہیں مارا جائے گا، تمہیں بے حرمت کیا جائے گا، تمہیں بے وطن کیا جائے گا۔لیکن اُس نے اس کا کوئی علاج بھی بتایا ہے ؟ ہم قرآن کریم کی دیکھتے ہیں تو قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے اس کا علاج بھی بتایا ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَاسْتَعِينُوا ط بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ وَ إِنَّهَا لَكَبِيرَةُ إِلَّا عَلَى الْخَشِعِينَ 2 کہ جب تم پر مصائب آئیں، ابتلاء اور آزمائشیں آئیں ٹھو کر میں لگیں تو اس کے دو ہی علاج ہیں جو خدا تعالیٰ کے مقرر کردہ ہیں۔اور وہ صبر اور صلوٰۃ ہیں۔مگر یہ صبر و صلوۃ آسان بات نہیں اِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ۔یہ بڑی بوجھل چیزیں ہیں۔مگر جو لوگ خاشع ہیں، جن لوگوں کے دلوں میں خدا تعالیٰ کا ڈر اور خوف ہوتا ہے وہ اس بوجھل چیز کو اٹھانے پر تیار ہو جاتے ہیں۔عملاً دیکھ لو مسلمانوں میں کتنے لوگ نمازی ہیں۔وہ لوگ جو یہ تقریر میں کرتے ہیں کہ پاکستان میں اسلامی دستور کا نفاذ ہونا چاہیے شاید پانچ نمازوں میں سے ایک آدھ نماز پڑھ لیتے ہیں۔اگر مساجد کو دیکھا جائے تو بہت تھوڑی مساجد آباد ہیں اکثر مساجد غیر آباد ہوتی ہیں۔زمینداروں کو لیا جائے تو ان میں نوے فیصدی وہ لوگ ہیں جو زمیندارہ کے اوقات میں نماز نہیں پڑھتے دوسرے اوقات میں وہ رسماً نماز ادا کر لیتے ہیں۔ہماری جی جماعت کو یہ ایک فضیلت حاصل ہے اور فضیلت ہونی چاہیے کہ ہم میں سے ہر شخص نماز کی قدر کو سمجھتا ہے۔لیکن وہ لوگ جو نمازوں میں سست ہیں وہ آخر کیوں سست ہیں؟ اس لئے کہ وہ کہتے ہیں کہ نماز پڑھنے میں بہت سی وقتیں ہیں۔خدا تعالیٰ بھی یہی فرماتا ہے کہ یہ بڑی بوجھل چیز ہے۔وہ یہ نہیں کہتا کہ یہ بڑی آسان چیز ہے۔وہ خود کہتا ہے کہ یہ بڑی مشکل چیز ہے لیکن ساتھ ہی یہ فرماتا ہے کہ جس شخص کے دل میں خوف ہوتا ہے وہ اس بوجھ کو بھی خوشی سے اٹھانے کے لئے تیار