خطبات محمود (جلد 33) — Page 199
1952 199 خطبات محمود ہو جا تا ہے۔دوسرے اوقات میں تو ممکن ہے کسی میں کبر ہو، غرور ہو ،لیکن جب وہ مصائب میں پس رہا ہو تو اُسے خدا تعالیٰ کے سامنے جھکنے میں کیا روک ہو سکتی ہے۔پس ہماری جماعت کو مشکلات کے مقابلہ میں دعا اور نماز کی طرف توجہ کرنی چاہیے۔میرے تو کبھی وہم میں بھی یہ نہیں آیا کہ کوئی احمدی نماز چھوڑتا ہے۔لیکن اگر کوئی ایسا احمدی ہے جو نماز کا پابند نہیں تو میں اُسے کہوں گا کہ وقت کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اس وقت تم پر نماز گراں نہیں ہونی چاہیے۔مصیبت کے وقت میں نماز گراں نہیں ہوتی۔مصیبت کے وقت لوگ دعائیں مانگتے ہیں، گریہ وزاریاں کرتے ہیں۔1905ء میں جب زلزلہ آیا تو اُس وقت ہمارے ماموں میر محمد اسمعیل صاحب لاہور میں پڑھتے تھے۔آپ ہسپتال میں ڈیوٹی پر تھے کہ زلزلہ آیا۔آپ کے ساتھ ایک ہندو طالب علم بھی تھا جود ہر یہ تھا اور ہمیشہ خدا تعالیٰ کی ذات کے متعلق ہنسی اور مذاق کیا کرتا تھا۔جب زلزلہ کا جھٹکا آیا تو وہ رام رام کر کے باہر بھاگ آیا۔جب زلزلہ رُک گیا تو میر صاحب نے اسے کہا تم رام پر جنسی ملی اڑایا کرتے تھے اب تمہیں رام کیسے یاد آ گیا ؟ اُس وقت خوف کی حالت جاتی رہی تھی ، زلزلہ ہٹ گیا تھا اُس نے کہا یونہی عادت پڑی ہوئی ہے اور منہ سے یہ الفاظ نکل جاتے ہیں۔پس حقیقت یہ ہے کہ مصیبت کے وقت خدا تعالیٰ یاد آ جاتا ہے۔جس شخص کو مصیبت کے وقت بھی خدا تعالی یاد نہیں آتا تو سمجھ لو کہ اُس کا دل بہت شقی ہے۔وہ اب ایسا لا علاج ہو گیا ہے کہ خطرہ کی حالت بھی اُسے علاج کی طرف توجہ نہیں دلاتی۔پس اگر ایسے لوگ جماعت میں موجود ہیں جو نماز کے پابند نہیں تو میں انہیں کہتا ہوں کہ یہ وقت ایسا ہے کہ انہیں اپنی نمازوں کو پکا کرنا چاہیے۔اور جو نماز کے پابند ہیں میں انہیں کہتا ہوں آپ اپنی نماز میں سنوار میں۔اور جو لوگ نماز سنوار کر پڑھنے کے عادی ہیں میں انہیں کہتا ہوں کہ بہتر وقت دعا کا تہجد کا وقت ہے نماز تہجد کی عادت ڈالیں۔دعائیں کریں کہ خدا تعالیٰ ہماری مشکلات کو دور فرمائے اور لوگوں کو صداقت قبول کرنے کی توفیق دے۔مجھے اس سے کوئی واسطہ نہیں کہ دشمن کیا کہتا ہے۔لیکن یہ ڈرضرور ہے کہ جب اس قسم کا پرو پیگنڈا کیا جاتا ہے تو اکثر لوگ صداقت کو قبول کرنے سے گریز کرتے ہیں۔پس ہماری سب سے مقدم دعا یہ ہونی چاہیے کہ خدا تعالیٰ ہماری اُن مشکلات کو دور