خطبات محمود (جلد 33)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 197 of 397

خطبات محمود (جلد 33) — Page 197

1952 197 خطبات محمود اور ابتلاء و آزمائش لازم و ملزوم ہیں۔یہ ممکن نہیں کہ کسی تحریک کے شروع میں ایک شخص ایمان لا یا تی ہو اور وہ اپنے ایمان میں سچا ہو اور پھر آزمائشوں اور ابتلاؤں میں نہ ڈالا جائے ، اسے ٹھو کر میں نہ کی لگیں ، وہ مخالفت کی آگ میں نہ پڑے۔پس ہماری جماعت کو ہمیشہ یہ امر مد نظر رکھنا چاہیے کہ جب اس نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ ہم ایک مامور من اللہ کی آواز پر لبیک کہنے والے ہیں تو انہیں ابتلاؤں اور آزمائشوں کی بھٹی میں ڈالا جائے گا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَهُمْ لَا يُفْتَنُونَ اگر یہ سچ ہے کہ تم ایمان لائے ہو تو یہ بات کی بھی سچ ہے کہ تمہیں ابتلاؤں میں ڈالا جائے گا۔میں سمجھتا ہوں کہ کچھ لوگ تو احرار کے بہکانے سے سمجھ لیتے ہیں کہ جو شخص احمدی ہوتا ہے احمدی لوگ اسے روپیہ دیتے ہیں، پڑھاتے ہیں، اسے نوکری دلاتے ہیں ، اس کی شادی کراتے ہی ہیں۔اس قسم کی بکواس سن کر لوگ ہمارے پاس آجاتے ہیں یا وہ خطوط لکھ دیتے ہیں کہ ان کی اس کی قسم کی مدد کی جائے۔ہر ہفتہ دو تین ایسے آدمی یہاں پہنچ جاتے ہیں یا دو تین ایسے خطوط آ جاتے ہیں جن میں یہ مضمون ہوتا ہے۔ہم تو ان کے اس فریب میں نہیں آتے۔ہم کہتے ہیں جاؤ ایمان کا شرائط لگانے کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔لیکن وہ لوگ اپنی جماعت کو کتنا بے ایمان بنارہے ہوتے ہیں۔آخر آنے والا انہی میں سے آتا ہے۔اور جو اس خیال سے یہاں آتا ہے کہ اگر اُس کی مدد کر دی جائے تو وہ احمدی ہو جائے گا تو اُس کا ایمان کہاں رہ گیا۔ایک طرف تو احرار یہ کہتے ہیں کہ کہ احمدی لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرتے ہیں اور دوسری طرف روپے کی خاطر وہ لوگوں کو یہاں بھیجتے ہیں۔گویا وہ لوگوں کے اندر یہ روح پیدا کرتے ہیں کہ چند حقیر پیسے لے کر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کر لیا کرو۔اگر ہم واقع میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرنے والے ہوتے تو انہیں کروڑوں روپے پر بھی تھوکنا نہیں چاہیے تھا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی جس قدر بلندشان ہے اُس کے مقابلہ میں ساری دنیا ایک مچھر کی حیثیت بھی نہیں رکھتی۔پس جو ملاں یا جو مولوی کسی شخص کو یہ کہہ کر یہاں بھیجتا ہے کہ جاؤ احمدی لوگ تمہاری مدد کریں گے حالانکہ وہ یہ بھی خیال کرتا ہے کہ ہم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نَعُوذُ بِاللهِ تک کرتے ہیں تو وہ مسلمانوں کو بے ایمان بناتا ہے۔وہ ان کی غیرت کو مار رہا