خطبات محمود (جلد 33) — Page 132
1952 132 خطبات محمود ہے کہ اگر دن لا نا ہمارے اختیار میں ہو تو ہم کام کے وقت رات کو لائیں گے ہی کیوں؟ ہم تو یہی کی چاہیں گے کہ کام کا زمانہ لمبا ہو۔عقلمند انسان جو قشر کو نہیں دیکھتا بلکہ مغز پر نگاہ رکھتا ہے، جو ظا ہر کو نہیں بلکہ باطن کو دیکھتا ہے اس کی اصل توجہ ہمیشہ اپنے حکام کی طرف رہتی ہے۔وہ اس بات کی پروا نہیں کرتا کہ اسے کام کے بدلہ میں کچھ تنخواہ بھی ملتی ہے یا نہیں۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ جس چیز کے پیچھے میں لگا ہوا ہوں وہی میری روٹی ، وہی میرا کپڑا اور وہی میری زندگی کا سہارا ہے۔واقع کی یہی ہے کہ انسان روٹی سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے کلام سے زندہ رہتا ہے۔دنیا میں دو قسم کی روٹی ہوتی ہے۔ایک وہ روٹی ہوتی ہے جو سینکڑوں سال کے لئے مل جاتی ہے اور ایک وہ روٹی ہوتی ہے جس کے لئے صبح بھی محنت کرنی پڑتی ہے اور شام کو بھی۔قرآن کریم میں عیسائیوں کے متعلق کی ذکر آتا ہے کہ انہوں نے حضرت مسیح ناصری سے کہا کہ آپ خدا تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ہمیں وہ مائدہ دے جو آسمان سے نازل ہو 15۔اس کے معنی بھی یہی تھے کہ وہ ہمیں روحانی بادشاہت کی عطا کرے۔کیونکہ روحانی بادشاہت میں ایک ایسی چیز ہے جو آسمان سے اترتی ہے اور جس کے حصول کے بعد صبح وشام کی محنت جاتی رہتی ہے۔اسی لئے وہ قو میں جو مذہب کے ذریعہ دنیا میں ترقی کیا کرتی ہیں اُن کے لئے صبح و شام کی محنت جاتی رہتی ہے کیونکہ وہ دنیا کی حاکم ہو جاتی ہیں، دنیا کے خزانے ان کے ہو جاتے ہیں اور انہیں بے محنت آپ ہی آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے روزی مہیا ہوتی رہتی ہے۔لیکن جب روحانی بیداری ختم ہو جاتی ہے تو جیسے موسیٰ" کے بعد ہوا اور جیسے عیسی کے بعد ہوا اور جیسے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ہوا پھر وہ قوم سزا پاتی ہے اور ہر شخص اپنے کئے کا نتیجہ بھگتا ہے۔تمہارے اندر بھی اس وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک نئی روح پیدا کی گئی ہے۔تمہارے لئے بھی ایک نیا مقصد مقرر کیا گیا ہے۔تمہارے لئے بھی ایک نئی زندگی پیش کی گئی ہے۔امریکہ کو با وجود اُس کی ساری طاقت کے کوئی یہ کہنے والا نہیں کہ اُٹھ ! اور میں تجھے اٹھاؤں گا۔انگلستان کو با وجود اتنا طاقتور ملک ہونے کے کوئی یہ کہنے والا نہیں کہ اُٹھ ! اور میں تجھے اٹھاؤں گا۔اسی طرح جرمنی، فرانس، سپین، روس، چین، جاپان اور ہندوستان کو کوئی یہ کہنے والا نہیں کہ اُٹھ ! اور میں تجھے اٹھاؤں گا۔صرف ایک احمدی جماعت ہی اس دنیا کے پردہ پر ایسی ہے جسے خدا نے ا۔