خطبات محمود (جلد 33) — Page 131
1952 131 خطبات محمود میں مُردنی چھا چکی ہے۔وہ عادی ہو چکے ہیں ذلت کے ، وہ عادی ہو چکے ہیں رسوائی کے ، وہ جی غلامی کی کڑیوں کو اپنے لئے زیور سمجھتے ہیں۔وہ اپنے سروں پر لدے ہوئے بوجھ کو اپنے لئے عزت کا موجب سمجھتے ہیں اس لئے ان میں وہ بیداری نہیں ، وہ عزم نہیں ، وہ بے چینی نہیں جو حقیقی ذلت کے پہچاننے والے انسانوں میں ہوا کرتی ہے۔اسی لئے اللہ تعالیٰ اپنا ما مور بھیجتا ہے کیونکہ مج وہ جانتا ہے کہ یہ قوم اب پچھلی مصیبتوں کی عادی ہو چکی ہے۔اب ان کے دلوں میں اگلی امید میں کی پیدا کرو تا کہ یہ مُردہ قوم پھر زندہ ہو سکے۔یہی فرق ہے مولویوں میں اور خدا تعالیٰ کی طرف سے آئے ہوئے ماموروں میں۔مولوی ہمیشہ پچھلی مصیبتیں یاد دلاتا ہے اور اس طرح قوم کے ارادوں کو پست کرتا ہے۔اور خدا تعالیٰ کالج ماموران کے دلوں میں نئی امیدیں پیدا کر کے انہیں آئندہ کی ترقی کے لئے ابھارتا ہے۔اور انہیں بتاتا ہے کہ تم طاقتور ہو، تم دنیا پر غالب آنے کے لئے پیدا کئے گئے ہو تم آگے بڑھو کہ دنیا کی قوموں کی باگ ڈور تمہارے ہاتھ میں آنیوالی ہے۔لیکن بوجہ ایک پرانی عادت کے پڑ جانے کی کے ہزاروں ہزار لوگ ایسے ہیں جن کو جھنجھوڑنا پڑتا ہے ، جن کو جگانا پڑتا ہے ، جن کو بیدار کر نا پڑتا چ ہے۔مگر وہ پھر سو جاتے ہیں، وہ پھر گر جاتے ہیں ، وہ پھر سُست اور غافل ہو جاتے ہیں۔پس حقیقت یہی ہے کہ اِنَّ فِي خَلْقِ السَّمواتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ لايت لأولى الْأَلْبَابِ سمجھدار انسان کے لئے اس دنیا کے پردہ پر ہزاروں بیداری کی کی چیزیں ہیں۔کسی کے لئے یہ امر بیداری پیدا کرنے کا موجب ہوتا ہے کہ میں گر کر کہاں سے کہاں کی پہنچ گیا اور کسی کے لئے یہ امر بیداری پیدا کرنے کا موجب ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے میری ترقی کے لئے کہاں تک سیڑھیاں لگا رکھی ہیں کہ میں ان سیڑھیوں کے ذریعہ زمین سے نکل کر آسمان تک پہنچ سکتا ہوں۔غرض کسی کے لئے رات ہدایت کا موجب ہو جاتی ہے اور کسی کے لیے دن کی ہدایت کا موجب ہو جاتا ہے اور یہ رات اور دن کا چکر چلتا چلا جاتا ہے۔قدرت کے قانون کے مطابق راتوں کا آنا بھی ضروری ہے اور دنوں کا آنا بھی ضروری ہے۔لیکن اگر رات کو دن سے بدلا جا سکے تو کون ہے جو یہ پسند نہیں کرے گا کہ میرے کام کا زمانہ لمبا ہو اور میری غفلت اور سونے کا زمانہ کم ہو۔ہم مانتے ہیں کہ دن بھی ضروری ہے اور رات بھی ضروری۔لیکن سوال یہ